کینیڈا میں ایک ہزار ایرانی پاسداران انقلاب عناصر کی موجودگی کا انکشاف
شیئر کریں
مذکورہ عناصر امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے لیے فوری سکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں، ماہرین
ماہرین اور سیاسی ذمہ داران نے خبردار کیا ہے کہ کینیڈا میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ منسلک ہونے کا شبہ رکھنے والے تقریبا ایک ہزار عناصر موجود ہو سکتے ہیں، جو امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے لیے فوری سکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں، جیسا کہ امریکی اخبارنے اپنی رپورٹ میں بتایا۔
کینیڈا کی حزب اختلاف کی نائب اور سائے کی حکومت میںوزیر امیگریشن میشیل ریمبل گارنر نے کہا کہ لبرل حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی، مزید کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ صرف کینیڈا کے لیے تشویش کا سبب نہیں، بلکہ ہمارے اتحادیوں اور سکیورٹی شراکت داروں کے لیے بھی ہے۔
گارنر نے یہ بھی کہا کہ ایران سے منسلک شخصیات کینیڈا کی ہجرت کی نرم پالیسیوں کا فائدہ اٹھا کر ملک میں داخل ہو جاتی ہیں اور بعد میں پناہ کے لیے درخواستیں دیتی ہیں، جس سے انہیں واپس بھیجنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور موجودہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
فلاڈیلفیا میں مشرق وسطی فورم کے تحقیقی مرکز کے محقق جو ایڈم جارج نے کہا کہ ایران کا بنیادی اسٹریٹجک ہدف اب بھی امریکہ ہے، نہ کہ کینیڈا اور تہران امریکہ کو ”سب سے بڑا شیطان” اور اسرائیل کو ”چھوٹا شیطان ”سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ دنیا بھر میں سوئے ہوئے خلیے رکھتی ہے اور ممکن ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد اسے فعال کرنے کے لیے آپریشنل سگنل جاری کیے گئے ہوں، جو ایک امریکی خفیہ پیغام سے حاصل ہوا۔
کینیڈا کی وزارت امیگریشن پناہ گزینوں اور شہریت نے اعلان کیا کہ 5 مارچ تک ایرانی حکام سے منسلک ممکنہ ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں، جن کی تعداد تقریبا 239 ہے۔


