بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
امریکی حکام کی تحقیقات میں بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بھارتی کال سینٹرز کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔امریکی ریاست میری لینڈ میں کروڑوں ڈالر کے مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران بھارت سے چلنے والے منظم فراڈ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے۔رپورٹ کے مطابق تین بھارتی کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا، جنہیں مجموعی طور پر 48 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔ ان کال سینٹرز سے وابستہ افراد خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔جعل ساز ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے امریکی شہریوں کو خوفزدہ کر کے رقم وصول کرتے رہے۔ امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر بھارتی ایجنسیوں نے کارروائی کرتے ہوئے فراڈ نیٹ ورک کے چھ سرغنہ گرفتار کر لیے جبکہ بڑی مقدار میں الیکٹرانک سازوسامان بھی ضبط کیا گیا۔
ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹ جمی پال نے بھی بھارت میں قائم تین کال سینٹرز سے منسلک فراڈ نیٹ ورک کے خاتمے کی تصدیق کی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا استعمال ریاستی نگرانی کی کمزوری اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت میں حالیہ منظم سائبر فراڈ کے واقعات کمزور ضابطہ کاری اور ادارہ جاتی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ بھارتی نجی بینک آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چندی گڑھ برانچ سے سامنے آنے والے 590 کروڑ روپے کے بڑے مالی فراڈ کے معاملے میں ہریانہ اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔گرفتار ہونے والے ملزمان میں بینک کا سابق برانچ منیجر ریبھو رشی، اس کی اہلیہ سواتی سنگلا، سواتی سنگلا کے بھائی ابھیشیک سنگلا اور سابق ریلیشن شپ منیجر بھی شامل ہے۔ ہریانہ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سے بڑی رقم غیر قانونی طور پر منتقل کی گئی، تقریباً 300 کروڑ روپے ‘سواستک دیش پروجیکٹس’ نامی کمپنی کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے جو ریبھو رشی کی اہلیہ اور سالے کی ملکیت ہے۔ کمپنی میں سواتی سنگلا کے پاس 75 فیصد جبکہ ابھیشیک سنگلا کے پاس 25 فیصد شیئرز ہیں۔
اینٹی کرپشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل اے ایس چاولہ کے مطابق ریبھو رشی اور ابھے اس فراڈ کے مرکزی ملزم ہیں، دونوں نے تقریباً 6 ماہ قبل بینک کی نوکری چھوڑ دی تھی، رقم چندی گڑھ سے موہالی کے ایک دوسرے بینک میں منتقل کی گئی تھی جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔فراڈ اس وقت سامنے آیا جب ہریانہ حکومت کے ایک محکمے نے اپنا اکاؤنٹ بند کر کے رقم کسی دوسرے بینک میں منتقل کرنے کی درخواست دی، جانچ کے دوران بینک ریکارڈ اور اصل بیلنس میں فرق پایا گیا جس کے بعد دیگر سرکاری اکاؤنٹس کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک نے کہا ہے کہ اس نے ہریانہ حکومت کے متعلقہ محکموں کو مکمل رقم بمع سود واپس کر دی ہے جو تقریباً 583 کروڑ روپے بنتی ہے، بینک ‘کسٹمر فرسٹ’ اصولوں پر قائم ہے اور تفتیش جاری ہونے کے باوجود اس نے فوری ادائیگی کر کے اپنی ذمے داری نبھائی ہے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
بھارت میں جنسی زیادتی، اغوا، خواتین اور بچوں کے خلاف مجرمانہ واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت میں تازہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2015ء کے مقابلے میں گزشتہ برس جرائم کی تعداد میں 2 اعشاریہ6 فیصد کا اضافہ ہوا۔جرائم کے سب سے زیادہ واقعات اتر پردیش میں رونما ہوئے، جبکہ شہروں میں نئی دہلی سے اس لحاظ سے سرفہرست رہا۔جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 2016ء میں جنسی زیادتی، اغوا، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں 2اعشاریہ6 فیصد کا اضافہ ہوا۔
این سی آر بی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016ء میں ملک بھر میں جرائم کے مجموعی طور پر 48 لاکھ 31 ہزار 515 واقعات درج کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ان میں 29 لاکھ 75ہزار711 انڈین پینل کوڈ کے تحت آنے والے اور 18 لاکھ 55 ہزار 804 واقعات خصوصی اور مقامی قانون (ایس ایل ایل) کے تحت درج کیے گئے۔
٭٭٭


