مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ
شیئر کریں
محمد آصف
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے ۔ حالیہ دنوں ایرانی اور چینی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً سیٹلائٹ نگرانی اور ہائپرسونک میزائلوں نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے ۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین کے سیٹلائٹ نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی معلومات نے ایران کو اپنے اہداف کے درست مقامات تک رسائی دی، جس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام شدید دباؤ میں آ گئے ۔ اگرچہ ان دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن یہ امر واضح ہے کہ جدید جنگ اب صرف روایتی اسلحے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیٹا، رفتار اور درستگی فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب( Islamic Revolutionary Guard Corps) کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کو مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال کیا۔ اسرائیل کا معروف دفاعی نظام آئرن ڈوم اور امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم اس نئی طرز کی جنگ میں مسلسل آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ کم لاگت ڈرونز کے مقابلے میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کا استعمال عسکری توازن اور پائیداری کے حوالے سے سوالات پیدا کر رہا ہے ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر سستی اور بڑی تعداد میں دستیاب ٹیکنالوجی مہنگے نظاموں کو تھکا دے تو طویل المدت جنگ میں برتری کا معیار بدل سکتا ہے ۔
خلیجی خطے میں امریکی موجودگی بھی اس کشیدگی کا اہم پہلو ہے ۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں قائم یونائیٹڈ اسٹیٹ ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر امریکی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہاں موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان اطلاعات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ اگر واقعی امریکی مواصلاتی یا دفاعی نظام متاثر ہوئے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ
عالمی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کے اندرونی حالات بھی اس جنگی ماحول سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تل ابیب اور حیفہ جیسے اہم شہروں سے عوامی بے چینی، پناہ گاہوں میں ہجوم اور حکومتی اقدامات پر تنقید کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وزیرِاعظم نتین یاہوکی قیادت میں حکومت کو ایک طرف بیرونی خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف اندرونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے ۔ جنگی حالات میں اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر لیتی ہے ،جہاں ہر فریق نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
خطے کی کشیدگی کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے ، جسے Strait of Hormuz کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہ عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے ۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ بحرین، متحدہ عرب امارات ، سعودی عربیہ اور قطرجیسی ریاستیں نہ صرف توانائی کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور درآمدی خوراک پر بھی ان کی معیشت کا بڑا حصہ قائم ہے ۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں ان ممالک کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا نتیجہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اتار چڑھاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے ۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام نے بعض حملوں کی تصدیق کی، مگر نقصانات کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی۔ ایک طیارہ بردار جہاز پر ہزاروں اہلکار اور جدید جنگی سازوسامان موجود ہوتا ہے ، اس لیے اس نوعیت کا کوئی بھی واقعہ عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ تاہم جنگی حالات میں معلومات کا محدود اجراء بھی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے تاکہ عوامی ردعمل اور عالمی تاثر کو قابو میں رکھا جا سکے ۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ کے ابتدائی دن اکثر فیصلہ کن نہیں ہوتے ۔ ویتنام امریکہ کی طویل مداخلت، افغانستان میں بیس سالہ جنگ، اورعراق میں پیچیدہ حالات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عسکری طاقت ہمیشہ سیاسی استحکام میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ جدید جنگیں اکثر طویل اور تھکا دینے والی شکل اختیار کر لیتی ہیں جہاں معاشی دباؤ، داخلی سیاست اور عوامی رائے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک کثیر قطبی عالمی نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہے ، جہاں امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کو چیلنج درپیش ہے اور چین و دیگر علاقائی طاقتیں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عالمی طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی یہ پیش رفت عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمتِ عملی کے
لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے ۔
آخرکار یہ تصادم صرف میزائلوں اور بحری بیڑوں کی جنگ نہیں بلکہ نظریات، معیشت اور اطلاعات کی جنگ بھی ہے ۔ اگر سفارتی راستے اختیار نہ کیے گئے تو خطہ ایک طویل اور غیر یقینی کشمکش کی طرف بڑھ سکتا ہے ، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے ۔ تاریخ کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے ، اورآنے والے برس طے کریں گے کہ یہ بحران عالمی نظام کو کس سمت لے جاتا ہے ۔
٭٭٭


