سندھ بلڈنگ، اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات پر انتظامیہ کی خاموشی
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی پر تعمیراتی مافیا کو چھوٹ دینے کے الزامات ، علاقہ مکینوں کا احتجاج
پلاٹ نمبر 367سیکٹر 17Aرہائشی پرانی عمارت میں کمرشل بینک اور بالائی منزل کی تعمیر
ضلع شرقی کے علاقے اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حکام کی جانب سے کارروائی کے دعووں کے باوجود تعمیراتی مافیا سرعام کام کر رہا ہے اور اس میں محکمہ بلڈنگ کنٹرول کے ایک اعلیٰ افسر کے ملوث ہونے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔شہریوں اور علاقے کے مکینوں کا الزام ہے کہ اسکیم 33 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات عدیل قریشی نے تعمیراتی مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی سرپرستی میں علاقے میں بڑے پیمانے پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق ان کی مسلسل شکایات کے باوجود عدیل قریشی نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ان کی خاموشی کو مافیا اپنی مرضی کی تعمیرات کی اجازت سمجھ رہا ہے ۔اس سلسلے کی تازہ ترین مثال پلاٹ نمبر 367سیکٹر 17A ہے ، جو کہ رہائشی زون میں واقع ایک پرانی عمارت ہے ۔ اس پلاٹ پر نہ صرف گراؤنڈ فلور پر ایک کمرشل بینک تعمیر کیا جا رہا ہے بلکہ بالائی منزل کی تعمیر بھی زور و شور سے جاری ہے ۔ یہ پلاٹ رہائشی مقاصد کے لیے مختص ہے اور یہاں کمرشل تعمیرات قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس غیر قانونی تعمیر کی اطلاع ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کو دی تو انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی موقع پر کوئی کارروائی کی گئی۔ذرائع کے مطابق اسکیم 33 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسران اور تعمیراتی مافیا کی ملی بھگت سے عوام کی زندگیاں مشکل ہو گئی ہیں۔ خلاف ضابطہ کھڑی کی جانے والی عمارتوں کی وجہ سے علاقے میں پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "پلاٹ نمبر 367 سیکٹر 17A میں تعمیر ہونے والا بینک نہ صرف ٹریفک کے مسائل کو جنم دے گا بلکہ علاقے کی رہائشی فضاء کو بھی خراب کرے گا۔ ہم نے اس کی تحریری شکایت اتھارٹی میں جمع کروائی لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔”دوسری جانب شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمے کی کارروائیاں محض نمائشی ہیں۔ جرأت سروے ٹیم کی اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات کے باوجود محکمے کے نچلے سطح کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔


