عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری
شیئر کریں
یہ نفسیات کی عجیب گتھی ہے، انسان نارسا چیزوں کو بے توقیر کرنے پر تلا رہتا ہے، عزت بھی ایک ایسی ہی شے ہے۔ اگر میسر نہ ہوتو وہ خود عزت کی بے عزتی کرتا رہتا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری جب وہاڑی میں خطاب فرما رہے تھے، تو کیا وہ اپنے ماضی سے لڑ رہے تھے یا مستقبل کے اندیشوں سے دوچار تھے۔ عمران خان کو ہدف بناتے ہوئے وہ اپنی قیمت کا تعین کرارہے تھے، یا عمران خان کو حاصل احترام سے نبرد آزما تھے؟یہ سوال ہماری سیاسی تاریخ سے ہی نہیں سماجی رویے سے بھی جڑا ہے۔ آخر عوام کی اکثریت عمران خان کے ایام زنداں کا احترام کیوں کرتی ہیں اور جناب زرداری کی اسیری کو کیوں فراموش رکھتی ہے؟
صدر زرداری حالیہ دنوں میں متوقع اٹھائیسویں ترمیم کے دباؤ میں ہیں،اُنہیں اتحادی حکومت سے بھی گلے ہیں، دوسری طرف ماریو پوزو کے ناول گاڈ فاڈر کی عملی تصویر بن جانے والا اُن کے دوستوں کا ”سسٹم” عملاً سندھ حکومت کے متوازی فعال ہے۔ منظم جبر پر قائم اس نظام میںوہ ایک ایسے حصہ دار بن چکے ہیں جنہیں دولت سمیٹنے کی آزادی تو میسر ہے مگر سیاسی حرکیات میں خود کو متعلق رکھنے یا اعتراض اُٹھانے کی گنجائش نہیں۔ مدت ہوئی”ایک زرداری سب پر بھاری” کا نعرہ کہیں سنائی نہیں دیا۔ دل کی کیا مجال کہ کبھی طوافِ کوئے ملامت کو جائے ، اُدھرپندار کا صنم کدہ پہلے بھی کہاں آباد تھا جو ویرانی کا احساس دلائے۔ لے دے کہ ذرا سی ‘آناکانی’ باقی رہ جاتی ہے، جس پر’زہری’ بنا کر مسلط نواب شاہ کے علی حسن بروہی کا،حلقہ پی بی 21حب سے بطور رکن صوبائی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن ختم کر دیا جاتا ہے۔ سسٹم کے پسندیدہ سیکریٹریز اکھاڑ پھینکے جاتے ہیں۔ نیب اپنی زندگی کا احساس دلانے لگتا ہے۔
سندھ حکومت بے یقینی کی گرداب میں چلی جاتی ہے۔ کماؤ پوت وزراء کی ادارے چٹکیاں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں طاقت ور اشرافیہ کے ‘ناپسندیدہ’ نمائندے فیصل واوڈا صدر سے ملتے ہیں۔ بعد ازاں ایک ملاقات وزیراعظم شہباز شریف بھی فرماتے ہیں جس میں نظر آنے والا تناؤ موضوع بحث بن جاتا ہے۔ کیا اس فضا میں عمران خان کی قید صدر زرداری کا موضوع ہو سکتی تھی؟ ظاہر ہے وہ جھنجھلائے ہوئے ہیں اور توجہ پانے اور بھٹکانے کے متضاد رویے سے دوچار ہیں۔
جناب زرداری کو اور کچھ بھی آتا ہو، بس بولنا نہیں آتا۔ ان کی خاموشی کو اسرار کی تہوں میں لپیٹ کر دکھایا جا سکتا ہے، جیسا کہ میڈیا کے لے پالک ڈھنڈوریے کرتے بھی ہیں۔ مگر ان کی گویائی ایک بوجھ کی طرح ثابت ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف ان کی زبان کے ٹانکے ٹوٹے تو ان کی اسیری کے تمام راز بھی متوازی ابلاغ کے دھاروں پہ ایسے بہے کہ احساس ہونے لگا روزِ قیامت اعمال نامہ ہاتھوں میں کیسے تھمایا جائے گا۔ یا ستار العیوب!!امان امان!!
تاحیات استثنیٰ کے غبارے میں لپٹے صدر زرداری نے کہا کہ اُنہوں نے چودہ سال کی جیل کاٹی۔ جیل سختی سے گزرتی تو ایک ایک دن صدر کو یاد رہتا، مگر چونکہ یہ آسانی اور آسائش کے دنوں سے مختلف نہ تھی، لہٰذا یاد نہ رہا کہ اُنہوں نے چودہ برس نہیں، گیارہ برس جیل میں گزارے۔ یہ دروغ بھی فروغ پزیر رہتا اگر وہ عمران خان کے ساتھ اپنے پرآسائش دنوں کا موازنہ نہ کرتے۔ اُن کے گیارہ سال سامنے کر دیے گئے۔ اُن کا پہلا دور اسیری محترمہ بے نظیر بھٹو کی 1990 میں پہلی برطرفی کے بعد 10ستمبر 1990 تا 7 فروری 1993 تک کل 986 دنوں کا ہے جس میں جناب نے 350دن اسپتال میں گزارے۔ جناب زرداری کی دوسری قید نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں شروع ہوئی اور جنرل مشرف کے دور میں ایک خاموش معاہدے پر ختم ہوئی۔ یہ مدت 4/نومبر 1996ء سے 22/نومبر 2004 ء تک کل 2,967 دنوں پر محیط ہے جس میں تقریباً 1,483دن اسپتال میں گزارے گئے۔ ان کا تیسرا زندانی دور 10/جون 2019 ء سے 12/دسمبر 2019 تک 186دنوں پر مشتمل ہے، یہ بھی اسپتال میں گزارے گئے62دنوں کے ساتھ یادگار ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو ان کی کل قید کے4,139 دنوں (11.3 سال) میں سے تقریباً 1,895دن یعنی کچھ کم آدھی مدت اُنہوں نے اسپتال میں گزاری۔ جناب زرداری نے عمران خان کی بیماری کا مذاق تو اڑایا مگر شاید اُنہیں یاد نہیں رہا کہ وہ اسپتال میں اپنی آدھی مدت اسیری جعلی بیماریوں کے بہانے گزارتے رہے۔ اپنی اسیری کے عرصے میں جناب زرداری کو جو بیماریاں لگیں وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کبھی وہ بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو کبھی ڈپریشن نے اُنہیں آلیا۔ کبھی اُنہوں نے دل پکڑا اور تین اسٹنٹ ڈالنے کی گنتی کرائی، تو کبھی اسی دل میں خون اور آکسیجن کی کمی (Ischemic) کے مرض کا رونا رویا۔ وہ بلڈ پریشر کے پریشر میں بھی رہے اور شوگر کے شکار بھی ۔ اُنہیں بھی پلیٹلیٹس کی کمی کا سامنا رہتا تھا۔ جوڑوں کا درد اُنہیں رہا، سنسری پیلی فیلر یعنی سنیل فیور (Snail Fever) کے بھی وہ شکار ہوئے۔ شسٹوسومیاسس (Schistosomiasis)جیسی پیراسائٹک بیماری بھی لاحق ہوئی اور خودمختار اعصابی نظام کو متاثر کرنے والے مرض نے بھی جکڑا۔سروائیکل سپونڈیلوسس سمیت ریڑھ کی ہڈی کے تمام مسائل یہ جھیلتے رہے۔ یہ سب کم نہ تھا کہ 9/ دسمبر2019 کو پمز کے ترجمان نے انکشاف کر دیا کہ آصف زرداری کی ایم آر آئی کرائی گئی جس سے معلوم ہوا کہ ان کی دماغی رگیں سکڑ گئیں اوردماغ چھوٹا ہو گیا ہے۔ اتنی ساری بیماریوں کے بعد تو منا بھائی ایم بی بی ایس کی فلم کا ایک کردار’ سبجیکٹ’ یاد آتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ یہاں سبجیکٹ کا علاج ”ایوان صدارت” تشخیص ہوا۔ سرے محل کیس میں خود جناب زرداری لندن کورٹ میں یہ تحریری طور پر بیان دے چکے ہیں کہ وہ ڈیمنشیا کے مریض ہیں۔ یہ ہرگز تصور نہ کیجیے کہ ایک ڈیمنشیا کے مریض افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ بیماریاں درحقیقت کیا ہیں۔ امراض کے ان گاڑھے ناموں سے دھوکا نہ کھائیں۔
جناب زرداری کواپنی پر آسائش ایام اسیر ی میں ان بیماریوں کی” سہولتوں” کے علاوہ بے شمار آسانیاں بھی دی گئی تھیں۔ اُن کے پاس ایک مساج چیئر ہمیشہ رہتی تھی۔ اُن کے بلڈ پریشر اور شوگر کو ہر گھنٹے چیک کیا جاتا تھا۔ اُنہیں جیل میں پندرہ سے زائد مشقتی (خدمت پر مامور ) دیے گئے تھے، جن میں سے کچھ سرکاری نوکری پر لگائے گئے۔ یہ مشقتی جیل میں اُن کے سارے کام کرتے تھے، دودھ دینے سے لے کر مساج کرنے تک کے کام جن میں شامل تھے۔ سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خدمت گار تھے، فون میسر تھا، ملاقاتوں کا زبردست پروٹوکول رائج تھا۔ ماڑی کے اوپر ایک فلور میں ایک مخصوص ایریا دیا گیا تھا۔ ناشتے سے لے کر تمام کھانوں تک ہر چیز اُنہیں ہر وقت میسر رہتی تھی۔ سراج درانی اور ملک اسد سکندر سمیت بے شمار لوگ دن رات یہی خدمت بجا لاتے تھے۔ اس کے علاوہ اُنہیں ہر رنگ اور ہر قسم کا مشروب بھی ہمیشہ دستیاب رہتا تھا۔ جیل میں ان تمام سہولتوں کے باوجود زیر تذکرہ بیماریوں کے بہانے پہلے اُنہیں اسپتال اور پھر اکثر خاموشی سے قریب واقع بنگلوں میں تنہائی مہیا کی جاتی۔ جناب زرداری اسپتال میں بھی کئی کمروں کے ساتھ اور خلوت کے پورے ماحول میں زندگی کرتے تھے۔ اس رنگین ماجرا کی گواہی مرحوم ضیاء شاہد دے گئے کہ جناب زرداری کی میزبانی کا لطف اُٹھانے والوں میں خوبرو اداکارائیں بھی شامل تھیں۔ صدر مملکت اس زندگی کے ساتھ عمران خان پر حملہ آور ہوئے۔ انگریز شاعر الیگزینڈر پوپ نے 1711 میں اپنی ایک نظم سے انگریزی زبان میں ایک ضرب المثل کا خوب اضافہ کیا
”Fools rush in where angels fear to tread”
(احمق وہاں جا گھستے ہیں جہاں فرشتے جانے سے ڈرتے ہیں)
اس ضرب المثل میں لفظ ”فرشتے” پاکستان کی سیاسی لغت کے مخصوص الفاظ میں زیادہ بامعنی بن جاتا ہے۔ چنانچہ اب جناب زرداری کو اپنے بچوں کی عمروں اور جیل کی مدت کے درمیان کی کہانیوں کے ساتھ اپنے موقف کی کھکھیڑبھی اُٹھانی پڑ رہی ہے۔ اور بچوں کا یہ حال ہے کہ ٹوئٹ کرنے کے بعد حذف کرنی پڑ رہی ہے۔ بھلا عمران خان کی قید کی سختیوں کا موازنہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی اسیری سے کب ہو سکتا ہے، جس میں اُن کی جانب سے ڈیل کے معاملات پر خود بے نظیر بھٹو بھی دھوکے کی بدگمانی میں رہتی تھیں۔ یہ قصے تو الگ موضوع ہیں۔ مگر جناب زرداری اپنی پر تعیش قید سے کوئی عزت سمیٹ نہیں سکتے، جو عمران خان اپنی استقامت سے حاصل کر چکے ہیں۔ نایافت گاہے ہدف بنتا ہے۔ یہی مسئلہ عزت کے ساتھ ہے، میسر نہیں تو ہدف ہے۔ جناب زرداری بھی عزت کی بے عزتی کرنے پر تُلے ہیں۔ اور بولے ایسے ہیں کہ خود سمیت خاندان پر بھی بوجھ بن گئے ہیں۔
٭٭٭


