سندھ بلڈنگ، محکمانہ سرپرستی، کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات دھڑے سے جاری
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف تحفظ فراہمی کے الزامات ، حکام خاموش
اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی پلاٹ R536پر منصوبہ بند لاقانونیت ، مسلسل خلاف ورزیاں
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کو روکنے میں ناکام ہیں بلکہ خود تعمیراتی مافیا کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ کورنگی کے علاقے میں کئی برسوں سے غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ، اور ذرائع کے مطابق ان دونوں افسران کی سرپرستی میں یہ ناجائز کام ہو رہا ہے ۔مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی نے مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا ہے جس میں غیرقانونی تعمیرات میں ملوث مافیا کو کلی تحفظ حاصل ہے ۔ رزاق نامی رہائشی کا کہنا ہے ، "ہم نے متعدد بار انسپکٹر کاشف علی کو غیرقانونی تعمیرات کی اطلاع دی، لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ جب ہم ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے پاس پہنچے تو ان کے دفتر میں ہماری درخواستوں کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ڈائریکٹر سمیع جلبانی نے اپنے ماتحت انسپکٹر کاشف علی کو مکمل تحفظ دے رکھا ہے ۔ دونوں افسران کے درمیان مبینہ طور پر ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ کوئی بھی داخلی تفتیش آگے نہیں بڑھ پاتی۔ ایک سابق محکمانہ افسر کا کہنا ہے ، "یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے ۔ جب تک جلبانی صاحب جیسے اعلیٰ افسران کاشف جیسے فیلڈ عملے کو تحفظ فراہم کرتے رہیں گے ، غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔”اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31B میں واقع رہائشی پلاٹ R536 پر کمرشل پورشن یونٹ کی منصوبہ بند خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے ۔ جرأت سروے ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ "انسپکٹر کاشف علی کو مطلع کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ نقشہ منظور شدہ ہے ۔ جب ڈائریکٹر جلبانی کے دفتر گئے تو وہاں ملاقات کرنے والا کوئی نہیں تھا۔’’یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ تحفظ فراہم کرنے والے خود تحفظ کے طلبگاروں کے محافظ بن گئے ہیں۔ جلبانی اور کاشف کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔ اگر یہ دونوں افسران اپنے فرائض سے پہلو تہی کر رہے ہیں، تو انہیں فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے ‘‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ایسے افسران موجود رہیں گے جو مافیا کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس وقت تک کورنگی جیسے علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔


