میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی کی تقسیم یا نئے صوبوں کا مطالبہ غداری نہیں ، خالد مقبول

کراچی کی تقسیم یا نئے صوبوں کا مطالبہ غداری نہیں ، خالد مقبول

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۵ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

صوبوں کا قیام آئینی ضرورت ، انتظامی یونٹس بڑھانے سے ملک تقسیم نہیں مضبوط ہوگا
پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبے مانگ سکتی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں؟ تقریب سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (HITMS) کے زیر اہتمام کراچی کی مقامی یونیورسٹی میں منعقدہ "وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم” کی تقسیمِ اسناد و لیپ ٹاپ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور چیلنج بھی، ہمیں اپنے نوجوانوں کو ڈگری کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا کیونکہ آنے والے 30 سالوں میں دنیا اتنی تیزی سے بدل جائے گی کہ ایک ارب لوگ غیر متعلق ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دفاعی اخراجات اور قرضے اتارنے کے علاوہ کوئی پیسہ نہیں بچتا، تعلیم مکمل طور پر صوبوں کے سپرد ہے اور اب یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے حوالے سے نئے صوبوں کے مطالبے پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یا ملک کے کسی بھی حصے کے لیے کوئی بھی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں ہے، صوبے ریاست نہیں بلکہ انتظامی یونٹس ہوتے ہیں جن کی حیثیت ڈسٹرکٹ اور ڈویژن جیسی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1947 میں 2.5 کروڑ کی آبادی کے وقت بھی اتنے ہی صوبے تھے اور آج 25 کروڑ کی آبادی پر بھی وہی ڈھانچہ ہے، اگر پنجاب کی تقسیم کی بات جائز ہے تو سندھ کی تقسیم کو غداری کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ صوبوں کا قیام آئین میں درج ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے انتظامی یونٹس بنانا ملک کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں