قوموں کا زوال
شیئر کریں
سوال صرف یہ نہیں کہ ملک کیوں نہیں چل رہا،سوال یہ ہے کیا ہم اسے چلنے دیں گے ۔۔۔؟
سب سے خطرناک بات۔۔۔؟ ملک کا نظام اب عوام کو بھی تھکا چکا، جب لوگ احتجاج چھوڑ دیں، سوال پوچھنا چھوڑ دیں، تو پھر ملک نہیں مرتا، قوم مرجاتی ہے۔
ریاست نے خوف کو حکمرانی کا ہتھیار بنا لیا، اسی خوف نے قوم کو اندر سے توڑ دیا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ ہر کوئی اپنے دائرے میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب معاشرے مرتے نہیں، سڑجاتے ہیں۔
عجیب تماشا لگا ہوا۔۔۔ حکومت چل رہی ہے ۔۔۔ فائلیں حرکت میں ہیں۔۔۔ نوٹیفکیشن جاری ہو رہے ہیں۔۔۔ ایم او یو سائن ہورہے ہیں۔۔۔۔غیرملکی دورے ہورہے ہیں۔۔۔آئے روزدوست ممالک کے سربراہ پاکستان آرہے ہیں۔۔۔ وزراء کامیابی کے بیانات دے رہے ہیں۔۔۔ اخبارات کامیابی کے دعوؤں سے بھرے پڑے ہیں۔۔۔ٹی وی اسکرینیں ترقی کی داستانیں سنا رہی ہیں۔۔۔ مگر ملک ۔۔۔ ملک جیسے کسی کونے میں کھڑا سانسیں گن رہا ۔ معیشت ڈوب چکی ، بیرونی سرمایہ کاری منجمد ، کوئی سرمایہ دار پاکستان کو محفوظ جگہ نہیں سمجھتا۔ پیسہ ڈرپوک ہوتا ہے ، جہاں عدم استحکام ہو وہاں رکنا اسے گوارا نہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ۔ وہ مڈل کلاس جو کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ، وہ یا تو نیچے گر چکی ہے یا ملک چھوڑ چکی ہے ۔ اب پاکستان دو حصوں میں بٹ گیا ہے ، انتہائی امیراورانتہائی غریب، درمیان میں کچھ نہیں بچا۔ ہسپتال بیماری سے زیادہ مہنگے ہو گئے ہیں۔ اسکول فیسیں اتنی ہیں کہ تعلیم خواب بن گئی ہے ۔ انصاف عدالتوں میں نہیں، وقت اور پیسے کے ترازو میں تولا جاتا ہے ۔۔۔۔ اور سکیورٹی وہ بھی اب صرف فائلوں میں محفوظ ہے ، گلیوں میں نہیں۔ تاجر اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے ، ہنرمند نوجوان ملک سے بھاگ رہے ، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹ، سب کسی اورزمین پر اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔یہ صرف ”برین ڈرین” نہیں، یہ قوم کی روح کا انخلا ہے ۔ دوسری طرف دہشت گردی پھر سر اٹھا رہی ہے ۔ وہ آگ جو ہم نے سوچا تھا بجھا دی ہے ، وہ دوبارہ شعلہ بن رہی ۔۔۔ اور ایک عام شہری۔۔۔؟ وہ ہر خبر کے بعد خود سے پوچھ رہا ہے ،کیا یہ ملک واقعی چل رہا ہے ۔۔۔؟ یا صرف حکومت۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر چہرے پر لکھا ہے لیکن کوئی بولنے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نظام کس کیلئے چل رہا ہے تو بس ایک سوال پوچھ لیں، اس بحران میں کون غریب ہو رہا ہے اور کون امیر۔۔۔؟
پاکستان کی حالت کو اکثر ایک ”بحران” کہا جاتا ہے ۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ بحران نہیں، یہ ایک لمبا، خاموش اور منظم زوال ہے ۔ یہ بربادی سالوں کی غلط پالیسیوں،کرپشن، نااہلی اورطاقت کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے معیشت کو پیداوار کے بجائے قرض پر چلایا۔ ہم نے صنعت کے بجائے امپورٹ کو فروغ دیا۔ ہم نے برآمدات بڑھانے کے بجائے کرنسی کو مصنوعی سہاروں پر رکھا۔ اور جب سہارے ہٹے ، تو سب کچھ زمین بوس ہو گیا۔ ریاست نے عوام پر ٹیکس ڈالے ، لیکن اشرافیہ پر نہیں۔ عام آدمی ہر چیز پر ٹیکس دیتا ہے ، مگر جاگیردار، بڑے سرمایہ دار۔۔۔ اور طاقتور ادارے ، اب بھی مقدس گائیں ہیں۔ نتیجہ۔۔۔؟ ملک کے پاس چلنے کیلئے پیسہ نہیں، لیکن چند خاندانوں کے پاس نسلوں تک چلنے کی دولت ہے ۔ اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں سیاسی جنگوں میں استعمال کیا گیا۔ پولیس انصاف کے بجائے طاقت کی محافظ بن گئی۔ عدالتیں فیصلہ کم، انتظار زیادہ کراتی ہیں۔ بیوروکریسی خدمت کے بجائے فائلوں کی غلام ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود کو بچانے کیلئے ملک کو قربان کررہا ہے ۔۔۔ اور سب سے خطرناک بات۔۔۔؟ یہ نظام اب عوام کو بھی تھکا چکا ہے ۔ جب لوگ احتجاج چھوڑ دیں، سوال پوچھنا چھوڑ دیں، تو پھر ملک نہیں مرتا قوم مرجاتی ہے ۔
یہ سوال ہر درد مند دل میں ہے اتنی مہنگائی، اتنی بے روزگاری، اتنی ناانصافی کے باوجود قوم کیوں خاموش ہے ۔۔۔؟ کیا لوگ بے حس ہو گئے ہیں۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ لوگ تھک گئے ہیں۔ جب ایک آدمی بار بار احتجاج کرے اورہربار اسے لاٹھی ملے ، مقدمہ ملے ، یا بے بسی ملے تو آخرکار وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے ۔ جب ایک ماں بچے کی فیس اور دوائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو تو وہ انقلاب نہیں سوچتی، وہ صرف کل کی روٹی سوچتی ہے ۔ریاست نے خوف کو حکمرانی کا ہتھیار بنا لیا ہے ۔ نوکری خطرے میں، کاروبار خطرے میں، آزادی خطرے میں۔ سوشل میڈیا پر بولنے والا غدار بن جاتا ہے ۔ سڑک پر نکلنے والا مجرم اور اسی خوف نے قوم کو اندر سے توڑ دیا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ ہر کوئی اپنے دائرے میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب معاشرے مرتے نہیں، سڑجاتے ہیں۔
پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے ، یہ وہ جگہ ہے جہاں قومیں یا تو اپنے آپ کو بدل لیتی ہیں یا تاریخ میں دفن ہو جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف حکومت نہیں، مسئلہ نظام ہے ۔ وہ نظام جو چند خاندانوں، چند اداروں اورچند طاقتور گروہوں کیلئے بنایا گیا ہے ۔ جب تک قانون سب کیلئے برابر نہیں ہوتا کوئی حکومت، کوئی لیڈر، کوئی نعرہ پاکستان کو نہیں بچا سکتا۔
پاکستان کو کسی قدرتی آفت نے نہیں،غلط فیصلوں نے مارا، لالچ نے مارا، نااہلی نے مارا۔۔۔ اور خاموشی نے مارا۔ یہ ملک آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس کے لوگ زندہ ہیں۔ مگر یہ نظام ان لوگوں کا خون نچوڑ رہا ہے جو اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہاں بچے بھوکے سوتے ہیں اور ایوانوں میں بجٹ بڑھتے ہیں۔ یہاں مائیں دوائیں چھوڑ دیتی ہیں اور حکمران مراعات نہیں چھوڑتے ۔ یہاں نوجوان ویزا ڈھونڈتے ہیں اور لیڈر قوم پرستی بیچتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب سوال صرف یہ نہیں کہ ملک کیوں نہیں چل رہا،سوال یہ ہے کیا ہم اسے چلنے دیں گے یا یوں ہی لٹتا ہوا دیکھتے رہیں گے ۔۔؟ کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے قومیں غربت سے نہیں مرتیں،قومیں ناانصافی کو قبول کرکے مرتی ہیں۔۔۔۔
٭٭٭


