میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 21.5 ارب روپے کے پیکیج

شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 21.5 ارب روپے کے پیکیج

جرات ڈیسک
پیر, ۲۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

گل پلازا کے سانحے نے اس شہر کو ترقی دینے کیلئے بھاری وسائل خرچ کرنے کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کا اصلی چہرہ بے نقاب کردیا ہے، جس کے بعد صوبائی قیادت حرکت میں آئی ہے اور سندھ کی قیادت کی جانب سے اہم بازاروں، اسکولوں، ہسپتالوں اور پلازوں میں 1,142 فائر ہائیڈرینٹس کی تنصیب، اور سڑکوں و بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 21.5 ارب روپے کے پیکیج کے اعلانات کئے گئے ہیں،

اگرچہ ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ وقت درکار ہوگا اور اس دوران شہریوں کو خود ہی اپنے تحفظ کا انتظام کرنا ہوگا اور تمام بازاروں ،شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کی انتظامیہ کو زیادہ فعال اور چوکس رہ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تاہم دیر ہی سے سہی صوبائی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا کچھ خیال آہی گیا۔ اس اعتبار سے صوبائی قیادت کی جانب سے کئے گئے حالیہ اعلانات درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات قرار دیے جاسکتے ہیں۔ نظریاتی طور پر یہ دونوں منصوبے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں بنیادی شہری سہولتوں کی طویل عرصے سے جاری نظراندازی کا ازالہ کرتے ہیں اور ان پر عملدرآمد سے عوامی تحفظ، نقل و حرکت اور معیارِ زندگی میں نسبتاً بہتری آسکتی ہے۔

صوبائی قیادت کی جانب سے کئے گئے یہ اقدامات شہریوں کو درپیش مسائل کا جتنا حل پیش کرتے ہیں اتنا ہی برسہا برس سے نظر انداز کئے جانے والے مسائل کی سنگینی کو بے نقاب بھی کرتے ہیں۔ فائر سیفٹی کے انتظامات اور سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ کوئی آسائش نہیں بلکہ کسی بھی فعال بڑے شہر کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ حقیقت کہ کسی بحران یا بار بار کی شکایات کے بعد ہی عملی قدم اٹھایا گیا، حکمرانی میں واضح خلا کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے ابتدائی نوعیت کے مسائل کے حل میں تاخیر شہری انتظامیہ کی اُن نظامی کمزوریوں کی عکاس ہے جنہیں طویل عرصے تک برداشت کیا گیا، اور جن کے باعث شہری گڑھوں سے بھری سڑکوں، ناقص نکاسی آب اور ناکافی ہنگامی تیاری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔

ارباب اختیار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ترقی کا اصل پیمانہ اعلانات نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد ہے۔ مستقل نگرانی، فالو اَپ اور سخت احتساب کے بغیر، حتیٰ کہ سب سے زیادہ فنڈز والے منصوبے بھی محض رسمی بیانات بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ کراچی ماضی میں بھی ایسے وعدے دیکھ چکا ہے۔عارضی مرمتیں، ادھورے منصوبے اور بار بار دی جانے والی وضاحتوں نے شہریوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا رکھا ہے۔ محض ایک بار کی مالی منظوری یا حکم، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، فعال شہری نظم و نسق کی ثقافت کا متبادل نہیں بن سکتا۔بالآخر، حقیقی تبدیلی کا ثبوت اس وقت سامنے آئے گا جب ایسے بحران ردِعمل پر مبنی اقدامات کو جنم نہ دیں، جب فائر ہائیڈرینٹس واقعی فعال ہوں، سڑکیں پائیدار ہوں، اور شہریوں کو بار بار کی خلل اندازی کے بغیر ٹھوس نتائج نظر آئیں۔ اس وقت تک، اعلانات، منظوریوں اور بڑے بڑے مالی پیکیجز کی حیثیت عارضی ہی رہے گی اور یہ یاد دہانی ہوگی کہ جو چیز معیار ہونی چاہیے تھی وہ اب بھی استثنیٰ بنی ہوئی ہے۔ حکمرانی کی پیمائش مسلسل عمل سے ہوتی ہے، نہ کہ سرخیوں سے؛ اور کراچی کے باسی بغور دیکھ رہے ہیں کہ آیا اس بار وعدوں کے بجائے نتائج بولتے ہیں یا نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں