66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونا امریکہ کو مہنگا پڑے گا!
شیئر کریں
امریکہ نے 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر کو زبردستی گرفتار کرنے، خود کو اس ملک کا حکمران قرار دینے اور پھر کھلے عام گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیوں کی وجہ ویزا پرپابندیوں کایہ حکم اس قدر توجہ حاصل نہیں کر سکا، یہ جتنی توجہ کا متقاضی تھا۔
نیٹو کے رکن ممالک فی الوقت اس بات پر الجھن کا شکار ہیں کہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کو کیا جواب دیا جائے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرصدارت امریکی پالیسیوں کا یہ رخ روس اور چین نے ایک دہائی قبل، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت سے بھی پہلے، درست طور پر بھانپ لیا تھا،یہی وجہ ہے کہ اسی تناظر میں 2016 میں دونوں ممالک نے اچانک بین الاقوامی قانون پر یکطرفہ اقدامات کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔حالیہدنوں میں سب سے واضح اور عملی اشارہ اس وقت ملا جب امریکی محکمہ دفاع کا نام ایگزیکٹو آرڈر 14347 کے ذریعے بدل کرمحکمہ جنگ رکھ دیا گیا۔
امریکی محکمہ دفاع کے نام کی تبدیلی پر بین الاقوامی قانون سے واقف افراد بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی قانونی ٹیم اندرون و بیرونِ ملک کسی غیرمعمولی اقدام کی تیاری کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر نے جنگ کے خلاف ایک نیا عالمی معیار قائم کیا تھا، جس کے تحت جنگ کو غیرقانونی قرار دے کر اس کی جگہ قانونی اصطلاح طاقت کا استعمال متعارف کرائی گئی، جو صرف دفاعِ ذات کی صورت میں جائز ہے۔ اسی وجہ سے 1947 میں محکمہ جنگ کا نام بدل کر محکمہ دفاع رکھا گیا تاکہ چارٹر کی پابندی کی جا سکے، اور یہ اشارہ دیا جائے کہ آئندہ طاقت صرف دفاع کے لیے استعمال ہوگی، چاہے وہ پیشگی دفاع ہی کیوں نہ ہو۔چنانچہ ٹرمپ انتظامیہ کا گزشتہ برس اس محکمے کا نام دوبارہ بدلنا ایک دانستہ قدم تھا گویا آنے والے دنوں کے لیے ایک ایسا انتباہ تھا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج جارحیت اور کسی غیر ملکی سرزمین پر قبضے کی ممانعت کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ بدقسمتی سے یہ خلاف ورزی وینزویلا کے معاملے میں ہو چکی ہے اور گرین لینڈ کے معاملے میں جاری ہے۔ امکان ہے کہ ایران کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا، جبکہ کینیڈا کو بھی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گرین لینڈ کے باشندے، ڈنمارک، یورپ اور دنیا کے دیگر رہنما حیران و پریشان ہیں کہ ایسے اصول کی خلاف ورزی پر کیا ردِعمل دیا جائے، جسے دنیا کے 195 ممالک نے اپنی مرضی اور رضامندی سے قبول اور نافذ کیا، اس پر عمل کیا، اس پر انحصار کیا اور 7 دہائیوں سے زائد عرصے تک اس پر مکمل یقین رکھا۔
یہ اصول عالمی امن اور سلامتی کے لیے اس قدر بنیادی تھا کہ کسی ریاست نے اسے کبھی مختلف انداز میں سمجھنے کی جرأت نہیں کی۔ اور جیسے یہ سب کافی نہ ہو، صدر ٹرمپ کی 7 جنوری 2026 کی یادداشت میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 66 بین الاقوامی اداروں سے علیحدگی کے اقدامات شروع کرے۔ عالمی حکمرانی کے ادارے محض علامتی یا غیر فعال فورم نہیں ہوتے؛ یہ وہ مقامات ہیں جہاں غور و فکر ہوتا ہے، اصول تشکیل پاتے ہیں اور آہستہ آہستہ پابند قانونی ڈھانچوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس لئے جب امریکہ ان اداروں سے نکلنے کااعلان کرتاہے تو عملاً وہ خود کو عالمی قوانین کے اثر سے آزاد نہیں کر لیتا، بلکہ ان قوانین کی تشکیل اور تشریح میں قیادت کا کردار چھوڑ دیتا ہے۔ امریکی انخلا کا فوری نتیجہ ایک اسٹریٹجک خلاکی صورت میں نکلتا ہے۔ چین، روس اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک نے مسلسل کثیرالجہتی اداروں میں موجود رہنے کو ترجیح دی ہے۔جب امریکہ باہر نکلتا ہے تو عالمی نظام کے متبادل تصورات کو جواز اور تقویت ملتی ہے۔امریکہ کے حریفوں کے نقطہ نظر سے یہ انخلا کسی نقصان کے بجائے ایک موقع ہے۔ امریکہ کے نکلنے سے ایجنڈا طے کرنے کی طاقت دوسروں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، اختلاف کم ہو جاتا ہے اور عالمی نظام کے متبادل تصورات کو قبولیت ملتی ہے۔ اس سے ترقی پذیر ممالک کے منظم بلاکس، جیسے جی 77 یا تنظیم تعاونِ اسلامی (OIC)، کے لیے بھی سنجیدہ مواقع پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے اثرورسوخ میں اضافہ کریں۔ یہ قانونی پلیٹ فارمز ترقی پذیر ممالک کو متحد ہو کر ان اداروں کی سمت متعین کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، شاید پہلے سے بھی بہتر انداز میں۔بین الاقوامی سیاست اور قانون پر نظر رکھنے والے افراد کو یاد ہوگا کہ امریکہ کے تحفظات کے باوجود ترقی پذیر ممالک نے 1982 کا معروف کنونشن برائے قانونِ سمندر طے کیا، جس نے کھلے سمندروں کی روایتی آزادی کو باقاعدہ ضابطے میں ڈھالا۔ گہرے سمندری فرش میں موجود معدنیات، پلاٹینم، نایاب دھاتوں اور دیگر وسائل پر کنٹرول، امریکی اعتراضات کے باوجود، بین الاقوامی سمندری اتھارٹی کو دیا گیا۔اسی طرح ایک اور مثال بین الاقوامی فوجداری عدالت کا قیام ہے، جو روم اسٹیٹیوٹ کے تحت عمل میں آیا۔ امریکہ آج بھی اس کی کھل کر مخالفت کرتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ عدالت قائم ہے،اس عدالت سے طویل مقدمات کے بعد 11 سزائیں سنا چکی ہے،گرفتاری کے تقریباً 60 وارنٹ جاری کر چکی ہے اور اس وقت 12 معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح کئی بین الاقوامی معاہدے اور فریم ورک امریکہ کے تحفظات کے باوجود مکمل ہوئے اور آج بھی مؤثر طور پر کام کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں سے علیحدگی کے طویل المدتی نقصانات بتدریج سامنے آتے ہیں اور ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قلیل مدت میں یہ دکھائی نہ دیں۔ انخلا کے ذریعے امریکہ خود کو ان پیش رفتوں سے محفوظ نہیں کرتا بلکہ ابتدا ہی میں ان کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ تاریخی طور پر، امریکی اثرورسوخ صرف مادی طاقت پر نہیں بلکہ اتحادیوں کو اکٹھا کرنے، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان پل بنانے اور کثیرالجہتی نتائج کی قیادت کرنے کی صلاحیت پر بھی قائم رہا ہے۔ دوبارہ شمولیت، جب ہوتی ہے، تو خود بخود سابقہ اثرورسوخ بحال نہیں کرتی؛ اس کے لیے اکثر رعایتیں دینی پڑتی ہیں اور اعتماد ازسرِنو قائم کرنا پڑتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ خلاف ورزیوں کے باوجود عدم مداخلت کا اصول دراصل مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ دیکھیے کہ کس طرح پوری دنیا، تمام خطے اور مختلف تہذیبوں کی نمائندہ ریاستیں احتجاج کے لیے کھڑی ہو گئی ہیں۔ جنگ کے خلاف اور عدم مداخلت کا اصول محض 1945 میں بنایا گیا ایک قانون نہیں، بلکہ یہ ہزاروں برس کی خونریزی اور علاقائی لڑائیوں کے بعد حاصل ہونے والی کثیر تہذیبی بلوغت کی علامت ہے۔ یہاں صرف علاقائی بالادستی کا سوال نہیں بلکہ ایک تہذیبی نقصان کا خدشہ ہے، جسے روکنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے والی ہر ریاست کوشاں ہے۔
٭٭٭


