میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 پاکستانیوں کیلئے امریکی امیگرنٹ ویزوں پر پابندی

 پاکستانیوں کیلئے امریکی امیگرنٹ ویزوں پر پابندی

جرات ڈیسک
پیر, ۱۹ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا مالی بوجھ کم کرنے کے نام پر پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کو امیگریشن ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق 21 جنوری سے ہوگا ۔

جن ممالک کے شہریوں پر مذکورہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، افغانستان، روس، ایران، عراق، مصر اور اردن بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نئے قومی سلامتی پروگرام اور امیگریشن پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، امریکہ کی طرف سے امیگریشن ویزوں کے اجرا پر پابندی اس وقت سامنے آئی جب محکمہ خارجہ نے گزشتہ سال امیگریشن قانون ‘پبلک چارج’ کے تحت جانچ پڑتال میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی تھی جس کا مقصد ان لوگوں کو نشانہ بنانا تھا جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ عوامی وسائل پر دبائبن جائیں گے۔ محکمہ خارجہ امیگریشن پراسیسنگ کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لے گا تاکہ ان غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو روکا جا سکے جو عوامی اور فلاحی فوائد حاصل کریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک کے شہریوں کو امیگریشن ویزا جاری کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں بھارت اور اسرائیل شامل نہیں ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہپالیسی مخصوص سیاسی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر جاری کی گئی ہے۔ یہ بات بھی لائقِ غور ہے کہ جن ممالک کے شہریوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں قابلِ ذکر تعداد میں مسلم ممالک شامل ہیں۔امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن ویزوں کی معطلی کا فیصلہ واشنگٹن کی امیگریشن پالیسی میں ایک غیرمعمولی اور سخت اضافہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کایہ قدم یا فیصلہ تناسب، قانونی حیثیت اور اصل مقصد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اگرچہ درخواست گزار اب بھی فارم جمع کرا سکتے ہیں اور انٹرویوز میں شریک ہو سکتے ہیں، مگر چونکہ ویزے جاری ہی نہیں کیے جا رہے، اس لیے یہ پالیسی غیرقانونی سرحدی آمدورفت کے بجائے قانونی امیگریشن کو نشانہ بناتی نظر آتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس وقفے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تارکینِ وطن مالی طور پر خودکفیل ہوں اور سرکاری فلاحی نظام پر انحصار نہ کریں۔تاہم جن ویزوں پر پابندی عاید کی گئی ہے ، یعنی خاندانی بنیادوں پر، روزگار کی بنیاد پر اور ڈائیورسٹی ویزے وہ پہلے ہی طویل جانچ پڑتال، سیکورٹی کلیئرنس اور مالی تقاضوں سے گزرتے ہیں۔ اگر اصل تشویش غیرقانونی امیگریشن ہے تو قانونی راستوں کو منجمد کرنا کسی طور بھی منطقی نہیں لگتا۔ پالیسی کی انتخابی نوعیت اس ابہام کو مزید بڑھا دیتی ہے۔طلبہ، سیاحتی اور کاروباری ویزے اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی شہری امریکہ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں یا دورہ کر سکتے ہیں، مگر مستقل طور پر وہاں بسنے یا اپنے اہلِ خانہ سے ملاپ کے قابل نہیں رہیں گے۔ واضح معیار یا مدت کے بغیر یہ اقدام قواعد پر مبنی ہونے کے بجائے من مانی محسوس ہوتا ہے۔ پبلک چارج رول کا استعمال بھی اس پالیسی کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔یہ اطلاعات کہ درخواست گزاروں سے 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈز جمع کرانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، امیگریشن کو عملاً دولت کے امتحان میں بدل دیتی ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے یہ شرط، مہارت یا اسپانسرشپ کے باوجود، تقریباً ناقابلِ عبور رکاوٹ بن جاتی ہے۔ حکام کی تازہ ہدایات بھی کوئی خاص اطمینان فراہم نہیں کرتیں ۔ انٹرویوز جاری رہیں گے، مگر وہ ویزے بھی مسترد کیے جائیں گے جو منظور ہو چکے ہیں مگر ابھی تک پرنٹ نہیں ہوئے۔غیرمتاثرہ ممالک کے پاسپورٹس پر درخواست دینے والے دوہری شہریت رکھنے والے افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ مبہم نوعیت کی’’قومی مفاد‘‘کی بنیاد پر کچھ استثنا دیے جا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی واضح معیار بیان نہیں کیا گیا۔پاکستانیوں کے لیے اس کے نتائج فوری اور سنگین ہیں۔ خاندانوں کے ملاپ کے منتظر افراد کو غیرمعینہ تاخیر کا سامنا ہے، منظور شدہ درخواستوں کے حامل پیشہ ور افراد غیر یقینی کیفیت میں پھنس چکے ہیں، اور طویل المدتی منصوبے معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستانی سفارتی مشنز بھی تاحال تفصیلی ہدایات کے منتظر ہیں، جس سے بے یقینی مزید بڑھ رہی ہے۔امریکی تاریخ میں ویزوں کی معطلی کوئی نئی بات نہیں، خاص طور پر سکیورٹی جائزوں کے دوران۔ مگر 75 سے زائد ممالک پر محیط اس وقفے کا پیمانہ بے مثال ہے۔ قانونی تارکینِ وطن کو نشانہ بناتے ہوئے اور عارضی ویزوں کو برقرار رکھ کر، یہ پالیسی اصلاح سے زیادہ دانستہ اخراج کا تاثر دیتی ہے۔

ایک منصفانہ امیگریشن نظام وہی ہو سکتا ہے جو شفاف، مستقل اور ہر فرد کے الگ جائزے پر مبنی ہو۔اگرچہ وزارت خارجہ سے کہاہے کہ حکومت ویزوں کے معاملے پر امریکی حکومت سے رابطہ کررہی ہے اور اس مسئلے کو حل کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ،لیکن ان کوششوں کا جو نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے وہ سب ہی کو معلوم ہے۔ہماری وزارت خارجہ کو امیگرنٹ ویزوں کے مسئلے پر بات کرنے کے بجائے تقسیم شدہ خاندانوں کے ملاپ کیلئے کوئی راستہ نکالنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر تقسیم شدہ خاندانوں کو ملنے کا موقع دینے پر رضامند کرنا چاہئے ۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی پاکستان کو اپنا قریبی اتحادی اور دوست تصور کرتے ہیں تو انھیں اس مسئلے پر توجہ دینی چاہئے ورنہ یہ بات زیادہ واضح ہوجائے گی کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قربتیں بڑھانے کا مقصد پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل تک بآسانی اور بلاروک ٹوک رسائی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں