میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جامعہ کراچی کی مہارانیاں وائس چانسلر کی دوڑ میں داخل

جامعہ کراچی کی مہارانیاں وائس چانسلر کی دوڑ میں داخل

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

رخصت کی دہلیز پر کھڑے خالد عراقی کے دعوے اگلے وائس چانسلر کی تعیناتی پر محیط
ڈاکٹر انیلہ امبر ملک آدھے درجن سے زائد انتظامی عہدے رکھ کر بھی مطمئن نہیں

وائس چانسلر جامعہ کراچی کے پامال شوق اور بیمار ذوق سے تباہ حال مادر علمی کے متعلق ان دنوں سب سے بڑا سوال یہ گردش کر رہا ہے کہ تباہ حال یونیورسٹی کی باگ دوڑ آگے کو ن سنبھالے گا؟ خالد عراقی نے اپنے ہم نوالہ وہم پیالہ اور محبوب و مرغوب جس جتھے کو یونیورسٹی میں پروان چڑھایا ہے، اُسے یونیورسٹی کے تمام کونوں گوشوں میں سرگرشیوں کے اندر ”عراقی بریگیڈ” کی دہشت ناک ترکیب سے پکارا جاتا ہے۔دلچسپ طور پر اس برگیڈ میں ”مہارانیوں ” کا خوب غلبہ ہے اور یہ بلاوجہ نہیں۔ ماضی کے تاریک گوشوں سے تاکتی جھانکتی متعدد کہانیاں شیخ الجامعہ خالد عراقی کے تعاقب میں ہیں۔ ان رنگین و سنگین کہانیوں سے قطع نظر عراقی بریگیڈ کی متعدد خواتین بشمول ڈین سوشل سائنسز، وائس چانسلر کے اس اہم ترین اور” معزز”عہدے پر فائز ہونے کی امیدوار ہیں ۔شعبہ نفسیات کی ایک پروفیسر بھی کسی لاٹری کے کھلنے کی طرح اس منصب پر نظریں رکھتی ہیں۔اُن کا دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کا قرعۂ فال ان کے نام ہی نکلے گا۔ جامعہ کراچی کی ایک مہارانی قرار پانے والی شعبہ نفسیات کی خاتون پروفیسر انیلہ امبر ملک کراچی یونیورسٹی ٹیچرز فورم کے ذریعے متعارف ہوئی تھیں۔ اپنی ”نامعلوم صلاحیتوں” کی بناء پر وہ گہرے دوستانہ مراسم کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ کی ”نفس ناطقہ”بن گئیں۔ مقتدر حلقوں سے ہر محفل میں اپنے روابط جتلانے والی خاتون پروفیسر اگر یہ دعویٰ کرتی ہیںکہ وہ جامعہ کراچی چلا رہی ہیں تو بے خود یا دم بخود وائس چانسلر بھی شاید اس کی تردید نہ کر پائیں، وجوہات عیاں ہیں۔ سیکریٹری ایفی لیشن سے لے کر کراچی یونیورسٹی ٹیسٹنگ سروس ان کے ماتحت ہی حرکت پزیر ہیں۔ کوئی خاص بات تو ضرور پردۂ اخفاء میں ہے جو وائس چانسلر نے ان کے لیے ایک خصوصی منصب ”ڈائریکٹر گریجویٹ” تخلیق کیا ہے۔ اس منصب کی کارگزاری ایک علیحدہ داستان ہے۔ جامعہ کراچی کی یہی مہارانی کئی اہم پروگرام بند کرواچکی ہیں اور وائس چانسلر کی خود ساختہ چیف ایڈوائزربھی کہلاتی ہیں۔ اُن کی خواہش پر ہی پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ پروگرام کابھی آغازکر دیا گیا ہے ۔ایک ایسی یونیورسٹی میں جہاں نارمل بی ایس اور ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام چلانے کے لیے مستقل اساتذہ موجود نہیں ،جہاں ہر سمسٹر میں بڑی تعداد میں ٹیچنگ اسسٹنٹ و ایسوسی ایٹ اور وزیٹنگ فیکلٹی مستعار لی جاتی ہیں، انتہائی قلیل معاوضے پر ان سرگرمیوں کی ادائیاں بھی سندھ حکومت سے سے گرانٹ نہ مل پانے کے بہانے برسوں التواء میں رہتی ہیں، یہی نہیں بلکہ ایچ ای سی کی شرائط کی آڑ لے کر متعدد شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام بند کیے جا رہے ہیں، وہیں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ پروگرام شروع کرنے کے پیچھے محرکات ایک اسکینڈل بن رہے ہیں۔ پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ کی خاص بات اس میں ریسرچر کو ملنے والا Stipendہے جو سپروائزر اپنے پروجیکٹ سے ادا کرتا ہے، مذکورہ پروگرام میں سرے سے stipendکا کوئی ذکر ہی نہیں ۔اگر ایسا کوئی دعویٰ کر بھی دیا جاتا ہے تو جامعہ کراچی کی کمزور مالی حیثیت اور فنڈز کی کمی میں مذکورہ پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ میں ریسرچر کو stipendکس طرح ادا کیا جائے گا؟اس کا کوئی جواب بھی کہیں پر دستیاب نہیں۔ مگراس کا جواب اس لیے بھی ضروری ہے کہ جامعہ کراچی اپنے مستقل اساتذہ کو کئی سالوں کے ایوننگ کے بلز ادا کرنے سے قاصر ہے، اس کے علاوہ وزیٹنگ فیکلٹی کے معاوضے بھی ادا نہیں کیے جارہے ۔ڈاکٹر انیلہ امبر ملک جو آدھے درجن سے زائد انتظامی عہدے اپنے پاس رکھ کر بھی مطمئن نہیں ،ان کی تسلی کے لیے شاید پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ پروگرام بھی ناکافی ہو۔ جامعہ کراچی کی یہ مہارانی اکیلی نہیں جو خالد عراقی کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں بلکہ ڈین سوشل سائنسز ثمینہ سعید بھی اُس فہرست میں ایک چمکتا نام ہے جو یونیورسٹی کے ایک انتظامی افسر کے مطابق رجسٹرار سے لے کر پروفیسرز کی پروموشن تک کے معاملات میں دخیل رہتی ہیں، یہاں تک کہ یہی مہارانیاں فیکلٹی آف آرٹس میں نہ تو سلیکشن بورڈز ہونے دیتی ہیں اور نہ اپنے علاوہ کسی پروفیسر کو ریسرچ کرانے کی اجازت دیتی ہیں۔ اگرچہ یہ مہارانیاں اگلے وائس چانسلر کی سیاست کا بھی حصہ ہیں ،مگر شیخ الجامعہ خالد عراقی بھی اپنے چٹختے اعصاب کے دوران میں یہ دعویٰ بھی اچھالتے رہتے ہیں کہ ان کا نامزد کردہ شخص ہی وائس چانسلر کے منصب پر جلوہ افروز ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں