میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ،ملازمین کی ترقیوں کے عمل میں مالی بے ضابطگیاں

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ،ملازمین کی ترقیوں کے عمل میں مالی بے ضابطگیاں

ویب ڈیسک
منگل, ۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

متضاد سرکاری احکامات، امیدواروں سے غیر قانونی رقوم وصول کرنے کی شکایات موصول
نئے تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خالد شیر کی بروقت مداخلت، میرٹ پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

( رپورٹ صفدر بٹ) جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں ملازمین کی ترقیوں کا عمل متنازع ہو گیا ہے، جہاں متضاد سرکاری احکامات، مبینہ بے ضابطگیوں اور امیدواروں سے غیر قانونی رقوم وصول کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ تاہم، نئے تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خالد شیر کی بروقت مداخلت کو ادارے میں میرٹ اور شفافیت قائم رکھنے کی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق جے پی ایم سی میں 7 جنوری 2026 کو ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں بی پی ایس-2 سے بی پی ایس-15 تک کے ملازمین کی ترقیوں پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کریں گے، جبکہ اس میں سینئر ہسپتال افسران کے علاوہ حکومتِ سندھ کے سروسز اور صحت محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ڈی پی سی اجلاس سے قبل انتظامیہ کی جانب سے لوئر ڈویژن کلرک (ایل ڈی سی، بی پی ایس-11) کے عہدے کی خالی اسامیوں پر ترقی سے متعلق خصوصی ڈیلی آرڈرز جاری کیے گئے۔ 31 دسمبر 2025 کے ایک خصوصی حکم نامے میں اہلیت کو مستقل بنیادوں پر کام کرنے والے بی پی ایس-1 سے بی پی ایس-4 کے ملازمین تک محدود رکھا گیا، جن کے لیے انٹرمیڈیٹ کی تعلیمی اہلیت، کم از کم 30 الفاظ فی منٹ ٹائپنگ اسپیڈ اور بنیادی کمپیوٹر مہارت کی شرط رکھی گئی۔ اس مقصد کے لیے 3 جنوری 2026 کو نیو اسکول آف نرسنگ، جے پی ایم سی میں ٹائپنگ ٹیسٹ شیڈول کیا گیا۔ بعد ازاں 5 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے ایک اور خصوصی ڈیلی آرڈر میں بتایا گیا کہ اعلیٰ حکام کو موصول ہونے والی شکایات کے بعد ٹائپنگ ٹیسٹ ملتوی کر کے 6 جنوری کو دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ جے پی ایم سی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ان شکایات میں الزام لگایا گیا تھا کہ نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے منسلک بعض رہنما مبینہ طور پر امیدواروں سے رقوم وصول کر رہے تھے تاکہ انہیں ٹائپنگ ٹیسٹ میں شرکت کے دوران معاونت فراہم کر کے من پسند امیدواروں کو کامیابی دلوائی جا سکے۔ زرایع کا کہنا ہے کہ احکامات کے اس سلسلے نے ملازمین کی اکثریت میں تشویش پیدا کر دی، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ایک مخصوص عہدے کے لیے ٹیسٹ کا انعقاد ڈی پی سی کے باقاعدہ اجلاس سے قبل کیا گیا۔ سرکاری قواعد کے تحت ترقیوں کا فیصلہ ڈی پی سی کے ذریعے سینیارٹی کم فٹنس کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے۔ ملازمین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ایل ڈی سی کے لیے اہلیت کو صرف بی پی ایس-1 سے بی پی ایس-4 تک محدود کیوں کیا گیا، جبکہ ڈی پی سی کے ایجنڈے میں بی پی ایس-2 سے بی پی ایس-15 تک کے گریڈز شامل ہیں۔ ان حالات میں نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خالد شیر کے کردار کو ادارے کے اندر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مالی بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات موصول ہونے پر انہوں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ٹائپنگ ٹیسٹ منسوخ کر دیا تاکہ میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو۔ ان کے اس اقدام کو اس بات کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ موجودہ انتظامیہ ترقیوں کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ ملازمین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ شکایات سامنے آنے پر ٹیسٹ کی منسوخی نئے انتظامی سیٹ اپ کی جانب سے ماضی کی روایات سے ہٹ کر تمام ترقیوں کو قواعد کے مطابق ڈی پی سی کے ذریعے نمٹانے کی کوشش کی عکاس ہے۔ تاحال جے پی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے الزامات پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ترقی سے متعلق معیار اور ٹیسٹ کے معاملات کو آئندہ ڈی پی سی اجلاس کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ تاہم، ان پیش رفتوں کے بعد جے پی ایم سی میں ترقیوں کا عمل کڑی نگرانی میں آ گیا ہے اور ملازمین کو توقع ہے کہ ڈی پی سی کے فیصلے میرٹ اور شفافیت ہونے سے ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں