سندھ بلڈنگ، ضلع وسطی میں بلڈنگ مافیا اور نااہل حکام کاملاپ
شیئر کریں
ضلع وسطی کی رضویہ سوسائٹی میں پلاٹ نمبر سی 4 کا از سر نو بے شرمی سے تعمیر کا اعلان
جعفر امام صدیقی کا غیر معمولی احسان !ڈیمولیشن کے بعد ری کنسٹرکشن کی اجازت
وسطی میں بلڈنگ مافیا اور نااہل حکام کے ملاپ نے ایک بار پھر شہر کی حفاظت اور قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ضلع وسطی کی رضویہ سوسائٹی میں پلاٹ نمبر سی 4، جسے قانون کی عملدرآمد کے تحت خطرناک ہونے کی وجہ سے گزشتہ دنوں ڈھایا گیا تھا،آج اسی مقام پر اس کی ’’ازسرنو تعمیر‘‘کا بے شرمی سے اعلان کر دیا گیا ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی صاحب نے اپنے ایک ہی قلم کے پھیر سے منہدم ہونے والی عمارتوں کے لیے "ازسرنو تعمیر کی چھوٹ” کا فرمان جاری کر دیا ہے ۔ گویا کہ یہ ادارہ عمارتوں کو ڈھانے کا نہیں، بلکہ ڈھانے کے بعد دوبارہ بنانے کی سہولت دینے کا ادارہ بن گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہے جسے شہر میں غیرمحفوظ اور غیرقانونی تعمیرات روکنی تھیں؟کیا عمارت کو ڈھانے کا مقصد صرف "انہدامی کارروائی” کا ڈراما دکھانا تھا؟کیا اس کھلے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی شخص پہلے غیرقانونی عمارت کھڑی کرے ،پھر اسے نمائشی انہدام کروائے ، اور پھر اتھارٹی کی چھوٹ کے سہارے اسے دوبارہ تعمیر کر لے ؟کیا اس "چھوٹ” کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف پلاٹ سی 4 ہی نہیں، بلکہ شہر بھر کی دیگر منہدم عمارتیں بھی دوبارہ اگ آئیں گی؟یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں، بلکہ کھلی قانون شکنی کو سرکاری تحفظ دینے کے مترادف ہے ۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ کراچی میں قانون صرف چھوٹے لوگوں کے لیے ہے ، جبکہ مخصوص لوگ یا مافیا پہلے بھی قانون سے بالاتر تھے اور آج انہیں سرکاری مہر کے ساتھ لائسنس بھی دے دیا گیا ہے ۔یہ شہر کی حفاظت کے ساتھ کھلا کھیل ہے ، اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس کھیل کے ریفری بن گئی ہے ۔


