آئی ایم ایف کے مزید مطالبات، مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ
شیئر کریں
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ کی ایک اور شرط پوری کرنے کیلئے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئیپالیسی کا مسودہ تیارکرلیا،فرمائشوں اور مطالبات کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی
آمدن بڑھانے کے بجائے اگر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہا تو معیشت کی رفتار مزید تھم جائے گی، زندگی مشکل ہو جائے گی ، قرض پروگرام کی مجموعی شرائط 64تک پہنچ گئی ہیں،اقتصادی ماہرین
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ( آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔حکام نے بتایا کہ پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر عائد پابندی اور شوگرملز لگانے کے لیے صوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز ہیں۔مزید بتایا کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے تاہم شوگر ملز کو کرشنگ سیزن میں خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ ختم اور شوگرسیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیے قوانین میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں۔حکام نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے شرائط کی طویل فہرست پاکستان کو دے دی ۔ بجلی اور گیس مہنگی کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ حکومت نے پیٹرول پر مزید لیوی لگانے اور سبسڈی میں کٹوتی کی تیاری کرلی۔ عملدرآمد کے بعد مہنگائی کی نئی لہر آنے کا امکان ہے۔ ماہرین نے خبردار کردیا کہ آمدن بڑھانے کے بجائے اگر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہا تو معیشت کی رفتار مزید تھم جائے گی اور زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گی۔ مالی نظم و ضبط کے نام پر حکومت کو اپنے اخراجات اور سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنے کا ہدف دے دیا گیا ہے۔سات ارب ڈالر کے توسیعی قرض سہولت کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط کے ساتھ ہی اگلی قسط کے لیے آئی ایم ایف کی فرمائشوں اور مطالبات کی نئی فہرست بھی مل گئی۔ گردشی قرضہ قابو میں رکھنے کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں بروقت اضافہ، پاور سبسڈی میں 143 ارب روپے کی کمی، پیٹرول و ڈیزل پر لیوی 5روپے بڑھا کر 85روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام یا کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈالنے سے معیشت مزید سست روی کا شکار ہوگی۔ حکومت کو غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کا مشورہ دے دیا۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا کام صرف معاشی استحکام میں معاونت ہے۔پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اصلاحات حکومت کی ذمہ داری ہے۔گیارہ نئی شرائط کے بعد قرض پروگرام کی مجموعی شرائط 64تک پہنچ گئی ہیں۔ آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ مارچ 2026 میں ہوگا جس سے پہلے حکومت کو متعدد اہداف پورے کرنا ہونگے۔


