میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹس بازار میں تبدیل

سندھ بلڈنگ ،ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹس بازار میں تبدیل

ویب ڈیسک
منگل, ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

اے ڈی ذوالفقار بلیدی اور تعمیراتی مافیا کا جوڑ توڑ ،ماڈل کالونی اب ‘ماڈل’نہیں رہی!
شیٹ نمبر 6پلاٹ سی 216٫ جے 1/1,2 کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کی چھوٹ

اگر آپ کا خواب ہے کہ آپ کے گھر کے سامنے پر سکون راستہ ہو، تو ضلع کورنگی میں قائم ماڈل کالونی میں آپ کا خواب اب پورا ہونے سے رہا۔یہاں تو ایسا لگتا ہے کہ رہائشی علاقہ کی اصطلاح ہی کسی پرانی ڈائری کا حصہ بن گئی ہے ۔ اور اس ‘تبدیلی’ کے پیچھے کون؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کے مبینہ پینترے ‘اور تعمیراتی مافیا کا خوف ناک جال” !ماڈل کالونی یا ‘منی مال”؟جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقے کے رہائشی بتاتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں یہاں کی فضا یکسر بدل گئی ہے ۔ رہائشی پلاٹوں پر ”راتوں رات”مارکیٹیں، شاپنگ پلازے اور کارخانے اگ آئے ہیں۔ کسی کو بھی قانون کی پرواہ نہیں، کیونکہ ان کے پیچھے ‘سرکاری چھتری’ موجود ہے ۔ مقامی محمد علی طارق کا کہنا ہے ”پہلے یہاں پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی، اب صرف ڈرل مشینوں اور ہارنوں کا شور ہے ۔ لگتا ہے ہم کسی کاروباری زون میں سورہے ہیں!”اتھارٹی” رکھوالے یا” بازار کے دروازے ”؟ شکایات ہیں کہ ذوالفقار بلیدی صاحب کی ”نظر کرم”سے غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ ”تحفظ”حاصل ہے ۔ کوئی شکایت دائر کی جائے تو فائل ”لفظوں کی بھولی”بن کر رجسٹری کے خانے میں سو جاتی ہے ۔ ایک مقامی کارکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا:’یہاں پر تعمیراتی مافیا اور بلڈنگ افسران کا ایسا ‘میٹھا تعلق ‘ہے کہ قانون خود ہی شرماسا جاتا ہے ۔”شیٹ نمبر 6 کے پیدائشی رہائشی پلاٹ سی 216 اور جے 1/12 پر دکانوں اور کمرشل تعمیرات کی چھوٹ تعمیراتی مافیا نے خطیر رقم ادائیگی کے بعد حاصل کر رکھی ہے جس پر علاقہ مکینوں کا صبر ‘عمارت’ بن کر گر رہا ہے ، پہلے گلیوں میں بچے کھیلتے تھے ، اب وہاں گاڑیاں پھنستی ہیں۔ناجائز تعمیرات نے پانی، گیس کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا۔ ہر طرف تعمیراتی مواد کا ڈھیر، گرد کا طوفان اور رات دن کام کا شور سنائی دیتا ہے ،سندھ حکومت کے اعلیٰ حلقوں تک یہ مسئلہ بار بار اٹھایا گیا،مگر ‘کارروائی’کا نام تک نہیں لیا گیا۔کیا یہ ‘تعمیراتی نمو’کا نیا ماڈل ہے یا پھر سرکاری ملازمین کی نجی آمدنی کا ‘پراجیکٹ’؟ماڈل کالونی کے رہائشیوں کا سوال ہے کہ ‘کیا ہمارے گھر صرف کاغذوں پر ‘رہائشی’ ہیں؟ کیا ہمیں شہری ہونے کا حق نہیں’؟شہری سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مبینہ ‘تعمیراتی پٹھوں’کے خلاف فوری کارروائی ہو، اور کورنگی کی ماڈل کالونی کو دوبارہ ‘ماڈل’بنایا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں