میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی، حیدرآباد پیکیج پر تشویش،سندھ حکومت کا ترقیاتی منصوبوں پر وفاق کا اختیار ختم کرنے کا فیصلہ

کراچی، حیدرآباد پیکیج پر تشویش،سندھ حکومت کا ترقیاتی منصوبوں پر وفاق کا اختیار ختم کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۸ ستمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

پی آئی ڈی سی ایل فوری طور پر صوبے میں نئی ترقیاتی اسکیموں پر فوری طور پر اپنا کام بند کرے اور صرف ان منصوبوں تک محدود رہے جو اسے سابقہ پاک ورکس ڈپارٹمنٹ سے منتقل ہوئے تھے
صوبائی حکومت کا اس معاملے پر تنازعات سے بچنے کیلئے وفاقی حکومت کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے وفاقی ادارے پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو باضابطہ خط لکھ دیا

سندھ حکومت کا صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر وفاقی اختیار ختم کرنے کا فیصلہ،سندھ حکومت نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر وفاقی ادارے پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کے اختیار کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس حوالے سے کمپنی کو باضابطہ خط بھی لکھ دیا گیا ہے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل فوری طور پر صوبے میں نئی ترقیاتی اسکیموں پر کام بند کرے اور صرف ان منصوبوں تک محدود رہے جو اسے سابقہ پاک ورکس ڈپارٹمنٹ (Pak PWD) سے منتقل ہوئے تھے۔ واضح رہے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت 26 ستمبر کو اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں پی آئی ڈی سی ایل کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل کو صرف پاک ڈبلیو پی ڈی کے پرانے منصوبے مکمل کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ادارہ صوبے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی مداخلت کررہا ہے جو کہ صوبائی خودمختاری کے منافی اور وفاق و صوبے کے درمیان طے شدہ دائرہ کار کی خلاف ورزی ہے خط کے مطابق سندھ حکومت کو اس بات پر تشویش ہے کہ کراچی اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج جیسے صوبائی منصوبوں پر پی آئی ڈی سی ایل عمل درآمد کررہا ہے حالانکہ یہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ صوبائی حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ وفاقی ادارے کی اس مداخلت سے ترقیاتی عمل میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اور مربوط پالیسی سازی متاثر ہورہی ہے سندھ حکومت نے اپنے خط میں وفاقی کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے تمام ترقیاتی منصوبوں سے فوری طور پر اپنا کردار واپس لے اور صرف ان منصوبوں تک محدود رہے جو پاک ڈبلیو پی ڈی سے وراثت میں ملے تھے۔ صوبائی حکومت نے اس معاملے پر وفاقی حکومت کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں