سیلاب اور بارش کی ایک ساتھ آمد، سندھ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
شیئر کریں
سندھ میں پنجند سے سیلابی ریلا داخل ہوگا، اس وقت کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ،بڑا سیلابی ریلا گڈو کی طرف جائے گا، اس کے ساتھ ہی 6 تاریخ کو بھارت سے سندھ میں بارشوں کا سسٹم داخل ہوگا
ٹھٹھہ، سجاول، میرپورخاص اور بدین میں 6سے 10تاریخ تک موسلادھار بارش ہوگی،11لاکھ ایکڑ زمین متاثر ہونے کا خدشہ، صوبے میں اتنا پانی ضرور آئے گا کہ پورے کچے کو ڈبو دے گا،ڈی جی پی ڈی ایم اے
سیلاب اور بارش کی ایک ساتھ آمد کے خدشے نے سندھ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے حکام نے سیلابی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں پنجند سے سیلابی ریلا داخل ہوگا، اس وقت کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔حکام کے مطابق ہیڈ پنجند سے بڑا سیلابی ریلا گڈو کی طرف جائے گا، اس کے ساتھ ہی 6 تاریخ کو بھارت سے سندھ میں بارشوں کا سسٹم بھی داخل ہوگا، جس سے ٹھٹھہ، سجاول، میرپورخاص اور بدین میں 6 سے 10 تاریخ تک موسلادھار بارش ہوگی۔ادھر ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سلمان شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب سے 11لاکھ ایکڑ زمین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جب کہ سندھ کے کچے میں 16لاکھ سے زائد آبادی اور 1670گاؤں ہیں۔ڈی جی کے مطابق سندھ سے 12 لاکھ کیوسک تک کا ریلا آرام سے گزر سکتا ہے، گدو بیراج پر 6 سے 7 لاکھ کیوسک کا ریلا آ سکتا ہے، تاہم ڈی جی نے ایک طرف سیلاب کو سپر فلڈ کہا اور بتایا کہ سندھ حکومت نے سپر فلڈ سے نمٹنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں، دوسری طرف یہ بھی کہا کہ سیلابی ریلوں کی شدت میں کمی آ گئی ہے، سیلاب کی شدت سندھ میں پنجاب سے کم ہوگی اور امید ظاہر کی کہ ریلوں کی شدت میں کمی سے صورت حال بہتر رہے گی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ نے کہا سندھ میں اتنا پانی ضرور آئے گا کہ پورے کچے کو ڈبو دے گا، کچے کا علاقہ 7 لاکھ کیوسک ریلے میں پورا ڈوب جاتا ہے، جب کہ صوبے میں بند مضبوط اور اونچے ہیں، 12 لاکھ کیوسک کو برداشت کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر سے کوٹڑی تک دریا چوڑا ہے اس لیے اثر کم دکھائی دیتا ہے۔


