سندھ بلڈنگ، نارتھ ناظم آباد بلڈرز کی جیت، قانون کی شکست
شیئر کریں
چھوٹے پلاٹوں پر بڑی عمارتیں ادارے صرف تالیاں بجانے کو موجود
پلاٹ نمبر اے 340اور بی 48 پر خلاف ضابطہ تعمیرات شروع ہو گئیں
نارتھ ناظم آباد آج کل ایک عجیب نظارے کا مرکز ہے۔ یہاں زمین پر اتنی تیزی سے عمارتیں اُگ رہی ہیں کہ لگتا ہے جیسے زمین کے نیچے سیمنٹ اور سریے کی کوئی نہ ختم ہونے والی کان ہو۔بلڈرز مافیا کے کمالات یہ ہیں کہ 120گز کے پلاٹ پر 12 منزلہ خواب تعمیر کر دیا گیا ہے ۔ مگر یہ خواب مکینوں کے نہیں بلڈرز کی جیبوں کے ہیں ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں صرف اوپر جا رہی ہیں مگر ہماری زندگی نیچے گر رہی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی کارکردگی بھی دیدنی ہے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایسے خاموش ہیں جیسے اندھے چراغ کے نیچے کتاب پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ شکایات کے ڈھیر کاغذوں میں دفن ہیں اور فائلوں پر جمی گرد اتنی ہے کہ شاید تاریخ بھی شرما جائے ۔ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ عمارتیں یونہی بنتی رہیں تو نکاسی آب ٹریفک جام اور حادثات کی کہانی ہر گلی میں لکھی جائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اندھی اونچائیوں کے درمیان قانون کہیں زندہ بھی ہے یا بس دفاتر کی ایئرکنڈیشنڈ فضا میں سانس لے رہا ہے ۔علاقہ مکینوں نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ اگر ادارے واقعی جاگ جائیں تو بلاک C میں پلاٹ نمبر اے 340 اور بی 48 پر جاری غیر قانونی تیار ہونے والی عمارتیں شاید نیچے رک جائیں مگر لگتا ہے ادارے خوابِ خرگوش میں ہیں اور بلڈرز آسمان خریدنے نکلے ہیں۔ خلاف ضابطہ تعمیرات پر
موقف لینے کے لئے جرأت سروے ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر وسطی سید ضیاء سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔


