میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی کے تبادلے پرسسٹم کو دھچکا

ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی کے تبادلے پرسسٹم کو دھچکا

ویب ڈیسک
پیر, ۱۸ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

اگلے 15 دنوں میں واپس کراچی آجاؤں گا ، ساتھیوں کوڈی ڈی کی یقین دہانی
تعیناتیوں، تبادلوں، جعلی این او سی کے اجرا ، بھتہ وصولی جیسے اقدامات میں ملوث

محکمہ ماحولیات سندھ کے ماتحت ادارے سیپا میں کرپشن سسٹم کو جھٹکا، کامران کیمسٹ کے بعد "سسٹم” سے وابسطہ افسر منیر عباسی کا بھی کراچی سے تبادلہ کر دیا گیا۔ سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) منیر احمد عباسی کو سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(سیپا) ہیڈ آفس کراچی سے تبادلہ کر کے میرپورخاص بھیج دیا گیا ہے، جب کہ ان کی جگہ محمد شعیب راجپوت کو کراچی میں تعینات کیا گیا ہے، اس سے پہلے سیپا میں مغل سسٹم کے ایک اور اہم افسر محمد کامران خان یا کامران کیمسٹ کا کراچی سے سکھر تبادلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق منیر احمد عباسی نے اپنے قریبی ساتھیوں کو واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز میں اپنا تبادلہ واپس کروا لیں گے۔ منیر احمد عباسی اور کامران کیمسٹ پر سندھ میں "بدنام زمانہ مغل سسٹم” چلانے کے سنگین الزامات ہیں۔ ادارے کے اندر موجود افسران و ملازمین دونوں ان شخصیات کو ایک مخصوص طاقتور نیٹ ورک کا حصہ سمجھتے ہیں، جو نہ صرف سرکاری امور پر اثرانداز ہوتا رہا بلکہ فیلڈ افسران کی تعیناتیوں، تبادلوں، جعلی این او سیز کے اجرا اور بھتہ وصولی جیسے اقدامات میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جعلی این او سی کے ایک کیس میں انسپیکٹر ندیم سمیع پہلے ہی جیل میں ہے اور ان جعلی این او سیز کے اجرا میں ڈپٹی ڈائریکٹر کامران خان راجپوت یا کامران کیمسٹ اور منیر احمد عباسی براہ راست ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیپا افسران کی اپنی کئی پرائیویٹ کمپنیاں بھی ہیں جو صنعتی علاقوں سے کچرا اٹھانے کے ٹھیکے حاصل کرتی ہیں، اور اس نیٹ ورک کے ذریعے ماہانہ کروڑوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ ان کمپنیوں میں "بٹ صاحب” اور "عزیر” اور راحیل نامی پرائیویٹ کنسلٹنٹس ان کے نمائندہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے قریبی انسپیکٹرز عامر حبیب اور ندیم مورو، فیلڈ میں ان کے "دستِ راست” سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پرائیویٹ شخص افضل، جو منیر عباسی کا قریبی سمجھا جاتا ہے، اس کے پاس ادارے کا مکمل سرکاری ڈیٹا موجود ہے جو کہ ایک سنگین سیکیورٹی خدشہ اور سوالیہ نشان ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں