میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سپریم کورٹ، شریعت ایپلٹ بینچ میں مقدمات کی سماعت

سپریم کورٹ، شریعت ایپلٹ بینچ میں مقدمات کی سماعت

ویب ڈیسک
منگل, ۶ اگست ۲۰۲۴

شیئر کریں

سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ نے 4سال بعد کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے پہلے ہی کیس میں قتل کیس میں سزائے موت پانے والے کم عمر ملزم کی سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کردی اورپہلے ہی عمرقید کی سزا پوری ہونے پر فوری طور پر رہائی کاحکم دے دیا۔ بینچ نے قراردیا ہے کہ اگر ملزم کسی اورکیس میں مطلوب نہیں تواسے فوری طور پر رہا کردیا جائے۔ جبکہ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو مقتول وکیل کواپنا کلاس فیلو کہنامہنگاپڑگیا۔بینچ کے چیئرمین چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو عدالتی حکم کے دوران بولنے پرانہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ توہیں عدالت کررہے ہیں، کیا پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میںپیش ہورہے ہیں۔ میرے دوست ہیں کیا یہ وکیل کاکام ہے، ہم وکیل کی عزت کرتے ہیں، وکیل بھی ہماری عزت کریں، منہ نہ بنائیں۔چیف جسٹس کاحکم میں کہنا تھا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے سماعت کے آغاز پر ہی کہا کہ مقتول میرے دوست تھے جوکہ مکمل طور پر غیر ضروری تھا، ایسا بیان عدالت پر اثراندازہونے کے لئے دیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے یقینی دہانی کروائی کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کریںگے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں