
لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب، آصفہ بھٹو اور شرمیلا فاروقی کو سیاسی میدان میں اتارنے پر غور
شیئر کریں
پاکستان پیپلز پارٹی نے گھوٹکی انتخابات کی طرح لاڑکانہ میں بھی پنجے گاڑنے کے لیے ضمنی انتخابات پی ایس 11 کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹواور شرمیلا فاروقی کو سیاسی میدان میں اتارنے پر غور شروع کر دیا گیا ،سینئر قیادت کا بلاول بھٹو زرداری کو ضمنی انتخابات کی نشست پر خواتین رہنمائوںکو موقع فراہم کرنے کامشورہ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں پر بھی غور شروع کر دیا گیا ،سابق رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی کی سندھ کابینہ میں واپسی متوقع تفصیلات کے مطابق عام انتخابات2018 میں نثارکھوڑو کی صاحبزادی ندا کھوڑو کولاڑکانہ کے حلقے سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار معظم علی خان کے ہاتھوں بد ترین شکست حاصل ہوئی تھی جس میں جی ڈی اے امیدوار کے 32ہزار 178ووٹوں کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کی امیدوار21ہزار 118ووٹ حاصل کر سکیں تھیں بعد ازاں ان کی جانب سے رکن سندھ اسمبلی معظم علی خان کے خلاف سپریم کورٹ میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ندا کھوڑو کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کھوسہ کی جانب سے معظم علی خان پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اپنے دلائل میںیہ بات واضح کی گئی تھی کہ پی ایس 11کے امیدوار کے نام پر 140ایکڑ زمین ہے جبکہ کاغذات نامزدگی میں انہوں نے 61ایکڑ زمین ظاہر کی ہے جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ندا کھوڑو کی درخواست منظور کرتے ہوئے پی ایس 11لاڑکانہ 2میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیدیا۔