میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2025،پاکستان میں 3808 بچے لاپتا ،3400بازیاب

2025،پاکستان میں 3808 بچے لاپتا ،3400بازیاب

ویب ڈیسک
هفته, ۳۱ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

لڑکے سرفہرست ، جن میں 2,858 لڑکوں کے بعد 950 لڑکیاں شامل ہیں
پچھلے تین سالوں سے بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد واقعات میں تیزی سے اضافہ

(رپورٹ؍ ایم جے کے)سال 2025 میں لاپتہ 3808 میں سے 3400 بچے پورے پاکستان سے بازیاب ہوئے، پنجاب سے 1,378، سندھ 1,72، خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں 390، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 38، بلوچستان میں 174، آزاد جموں و کشمیر میں 98 اور گلگت بلتستان میں 3 کیسز سامنے آئے ہیں، لاپتہ بچوں کی تعداد میں لڑکے سرفہرست ہیں جن میں 2,858 لڑکوں کے بعد 950 لڑکیاں شامل ہیں، پچھلے تین سالوں سے ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، استحصال اور تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سال 2025 لاپتہ بچوں میں سے 89 فیصد، مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے 3808 میں سے 3400 بچے پورے پاکستان سے بازیاب ہوئے اور انہیں ان کے خاندانوں سے ملایا گیا، 3,808 گمشدہ بچوں کے کیس درج ہو? ان 3,808 رپورٹ کیے گئے کیسز میں سے، 3,400 بچوں کو کامیابی سے ٹریس کیا گیا ہے اور ان کے والدین کے ساتھ دوبارہ ملایا گیا ہے، جو 89% کی کامیابی کی شرح کو ظاہر کرتا ہے، اس وقت پاکستان بھر میں 408 بچے لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں، صوبہ وار ڈیٹا سیگریگیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب سے لاپتہ بچوں کی تعداد 1,378 ہے، سندھ 1,727، خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں 390، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 38، بلوچستان میں 174، آزاد جموں و کشمیر میں 98 اور گلگت بلتستان میں 3 کیسز سامنے آئے ہیں، ایک تشویشناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ لاپتہ بچوں کی تعداد میں لڑکے سرفہرست ہیں جن میں 2,858 لڑکوں کے بعد 950 لڑکیاں ہیں، جب عمر کے گروپ کا تجزیہ کیا گیا تو 534 بچے 0-5 سال کی عمر کے تھے، 756 کی عمریں 6-10 سال، 598 کی عمریں 16-18 سال تھیں، جب کہ سب سے زیادہ کیسز میں 11-15 سال کی عمر کے بچے شامل تھے، جن کی کل تعداد 1,920 تھی، یہ بچے مختلف وجوہات کی بناء پر اپنے گھر چھوڑ گئے تھے، لاپتہ بچوں کے بارے میں 2025 میں، پاکستان بھر میں 350 پولیس افسران کو زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 کے ساتھ ساتھ گمشدہ بچوں کے کیسز سے نمٹنے کے لیے رہنمائی کے ساتھ تربیت دی گئی، لاپتہ بچوں کا سراغ لگانے میں شاندار کارکردگی پر سندھ کے 122 پولیس افسران کو بہترین کارکردگی کے ایوارڈز دینے کے لیے تین تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ایک معاشرے کے طور پر ہمارے لیے تشویش کی بات ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، استحصال اور تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایک رجحان دیکھا گیا ہے کہ لاپتہ لڑکوں کو لڑکیوں سے زیادہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، دردناک بات یہ ہے کہ پاکستان بھر سے لاپتہ بچوں کی 39 لاشیں برآمد ہوئیں ان میں سے تین کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، تمام شہریوں سے تاکید کی جاتی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور بچوں کے گمشدہ کیسوں کی فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن اور ہیلپ لائن 1138 کو اطلاع دیں اسکے علاوہ مطلقہ ادارے بھی پاکستان بھر میں بچوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے جاری کوششوں میں اہم کردر ادا کریں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں