سندھ بلڈنگ،پلاٹ مافیا اور افسران کا گٹھ جوڑ، تباہ کن غیرقانونی کمرشل تعمیرات
شیئر کریں
وقار ہاشمی اور آصف شیخ پر رہائشی پلاٹوں کو کمرشل یونٹ میں بدلنے میں معاونت کا الزام
رہائشیوں کے احتجاج کے باوجود پلاٹ 47اور اے 570پر غیرقانونی تعمیرات جاری
ضلع شرقی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں پیدائشی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ کی غیرقانونی تعمیرات نے نہ صرف علاقے کا نقشہ بدل دیا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار ہاشمی اور آصف شیخ کی مبینہ سرپرستی میں تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ اس غیرقانونی سرگرمی کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پی آئی بی کالونی، جو بنیادی طور پر رہائشی کالونی تھی، اب اس میں تجارتی مراکز، دفاتر اور دکانوں کی بے قاعدہ تعمیرات نے نہ صرف ٹریفک کا نظام مفلوج کر دیا ہے بلکہ نکاسی آب، پانی اور بجلی کی ترسیل پر بھی زبردست دباؤ ڈالا ہے ۔اس وقت بھی پلاٹ نمبر 47اور اے 570پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ،علاقے کے مکینوں نے بارہا ایس بی سی اے اور دیگر اداروں میں شکایات درج کروائیں، مگر انتظامیہ کی سرپرستی میں تعمیراتی مافیا کا یہ دھندہ بدستور جاری ہے ۔مقامی رہائشی رضوان احمد نے بتایا، ’’ہمارے گھروں کے سامنے کمرشل عمارتیں اٹھ رہی ہیں،جن کی منظوری کبھی نہیں دی گئی۔ہماری سڑکیں ان کی تعمیراتی گاڑیوں سے بھری رہتی ہیں‘‘۔اسی طرح خاتون رہائشی فوزیہ نے کہا، ’’بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ایک بڑا سبب یہ غیرقانونی کمرشل یونٹس ہیں جو رہائشی بجلی کو بھی استعمال کر رہے ہیں‘‘۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار ہاشمی نے آصف شیخ کی مبینہ ملی بھگت سے متعدد غیرقانونی تعمیرات کے لیے منظوری دے کر خطیر رقوم وصول کی ہیں۔ ان تعمیرات میں ضابطوں کی خلاف ورزیوں میں پارکنگ کا انتظام نہ ہونا، فائر سیفٹی کا فقدان اور زمین کا استعمال بدلنا شامل ہیں۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات اور فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کریں اور نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کو گرا کر علاقے کو رہائشی شکل دیں بلکہ ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں۔ پی آئی بی کالونی کے مکینوں نے واضح کیا ہے کہ اگر جلد از جلد ان کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کریں گے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکام اس غیرقانونی گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یا پھر رہائشی علاقوں کا کمرشلائزیشن کا یہ سلسلہ شہر کے دیگر حصوں میں بھی پھیلتا جائے گا۔


