میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کا خوف،اسرائیلی کابینہ کااجلاس زیر زمین منتقل

ایران کا خوف،اسرائیلی کابینہ کااجلاس زیر زمین منتقل

جرات ڈیسک
بدھ, ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

اسرائیل کے خلاف ایران کے حملے کے بعد ایران کے خلاف اسرائیل کے جوابی حملے میں اسرائیل کو کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور اس حملے کے نتیجے مین ایران کے صرف 4 فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا ،ابتدا میں اسرائیل نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ اس نے ایران کے میزائل تیار کرنے کے ٹھکانے کو تباہ کردیاہے اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے جس کی ایران نے فوری طور پر تردید کر دی تھی ،بعد ازاں ایران کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کرلی بلکہ اس حملے کا بدلہ لینے سے متعلق ایرانی رہنماؤں کے انتباہ نے اسرائیل پر لرزہ طاری کردیا ہے ،خاص طورپر وزیراعظم نیتن یاہو کی قیام گاہ کو لبنان سے نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد اسرائیل خود کو مکمل طورپر غیر محفوظ تصور کرنے لگاہے اور اس کو یہ یقین ہوگیاہے کہ امریکہ نے اسے جو میزائل ڈیفنس نظام دیا ہے وہ ایران سے چلنے والے میزائلوں کو روکنا تو کجا اس کی بروقت اطلاع دینے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ،ایران کے ممکنہ حملوں کے خوف کی وجہ سے اب اسرائیلی کابینہ نے اپنا اجلاس وزیراعظم ہاؤس اور اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر کے بجائے زیر زمین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق کابینہ کا اجلاس سیکورٹی خدشات کے باعث ایک متبادل مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، آئندہ حکومت کے اجلاس بھی وزیر اعظم کے دفتر، یروشلم یا تل ابیب میں ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں منعقد نہیں ہوں گے بلکہ نئے پروٹوکول کے مطابق وزراء اب ایک محفوظ زیر زمین مقام پر جمع ہوں گے، جہاں صرف وزرا کو شرکت کی اجازت ہوگی اور مشیروں کو شرکت سے روکا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اجلاس کے مقام کی تبدیلی کی وجوہات میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی ممکنہ ردعمل کی دھمکیاں شامل ہیں، جس کے بعد دفاعی ادارے نے ایران کے مزید حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ کے ڈرون حملے میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیصریہ میں واقع رہائش گاہ کو نقصان پہنچنے کے بعد، وزرا اور حکومتی شخصیات کی سیکورٹی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی رہائش گاہ پر حالیہ ڈرون حملے کے بعد اسرائیل سیکورٹی ایجنسی کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں ماہرین نے سیکورٹی میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں جن پر 3 سے 8 ملین شیکل کی لاگت کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ یروشلم کے بالفور اسٹریٹ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی 54 ملین شیکل (145 ملین ڈالر) کی مرمت اور سیکورٹی اپ گریڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایران کے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے اسرائیلی وزرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں کوئی بیان نہ دیں۔ اسرائیلی فوج نے بھی اس حملے کی تصاویر جاری نہیں کیں کیونکہ ان تصاویر میں ایران کو پہنچنے والے کسی بڑے نقصان کا ثبوت موجود نہیں ہے۔
اسرائیل مسلسل ایران کا صبر آزما رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ بڑی جنگ چھیڑ کر وہ غزہ پر اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے عالمی ممالک کی توجہ ہٹا دے۔ اس عمل کے دوران وہ ‘‘عظیم اسرائیل’’ بنانے کی خواہش بھی پوری کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، جو اس کا ہمیشہ سے خواب رہا ہے۔ اسرائیل نے اس بار ایران پر حملہ کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ متعدد محاذوں پر طویل جنگیں لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ان میں غزہ، مغربی کنارہ، لبنان، ایران اور یمن شامل ہیں۔کئی دہائیوں سے، اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی علاقائی جنگ کے امکانات پر مبنی رہی ہے، جو کبھی مصر، اردن اور شام پر مرکوز تھی۔ آج، اس حکمت عملی کا ہدف ایران ہے، جسے اسرائیل اپنے وجود کے لیے بنیادی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کی وجہ ایران کی جوہری صلاحیت اور میزائل ہیں جو اسرائیل کے بڑے شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، بجائے اس کے حمایت یافتہ گروپوں کے، خود اسرائیل کا اگلا ہدف بن جاتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بنیامن نیتن یاہو کی حکومت شاید خطے میں ایک بڑی جنگ کو بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی حکومتیں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے انتباہات کے باوجود اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور انسانیت کے خلاف اس کے جرائم کی مذمت کرنے سے بھی انکاری ہیں حالانکہ عالمی عدالت انصاف اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ دونوں نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو تسلیم کیا ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کو بھی نظرانداز کردیا۔ یہ حیران کُن ہے کہ وہ مغربی ممالک جو فخریہ انداز میں عالمی انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس کا درس دیتے ہیں، وہ بھی غزہ کی نسل کشی پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ کھونے کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے جو اس نے کئی سال میں اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ علاقائی سطح پر ایران جب کہ عالمی سطح پر روس اور چین امریکا کے اثر و رسوخ کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔ اسرائیل اب بھرپور کوشش کررہا ہے کہ وہ ایران کو اپنے ساتھ جنگ میں الجھا دے جس کا اصل مقصد ایران کو قابو میں کرنا ہوگا جو کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی تسلط کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔تاہم ایران کو شکست دینا اتنا آسان نہیں کیونکہ اپنی انٹیلی جنس کی حالیہ ناکامیوں کے باوجود ایران عراق سے شام اور لبنان تک، علاقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یمن کے معاملے پر تنازعات کے باوجود ایران، سعودی عرب کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔ یہ سب اسرائیل کے لیے اچھی خبر نہیں۔ عالمی حکمرانی میں امریکہ کی منافقت اور حرص اہم عناصر ہیں جس میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا بھی اس کے اتحادی بنے جب کہ اہم یورپی ممالک اور گلوبل ساؤتھ کی ریاستیں بھی اپنے مفادات کی خاطر امریکہ کا ساتھ دیتی ہیں۔ امریکہ کا رویہ یہ ہے کہ وہ عالمی سطح پر شرمساری سے بچنے کیلئے اپنے سب سے پسندیدہ لے پالک اسرائیل کو کبھی کبھی ہلکا سا ڈانٹ دیتا ہے اور نام نہاد تنبیہات بھی کردی جاتی ہیں۔لیکن امریکہ زیادہ تر اسرائیل کو جدید مہلک ہتھیار فراہم کرتا ہے اور اسے کھلی چھوٹ دے دیتا ہے کہ وہ انھیں جہاں چاہے استعمال کرے جب کہ اسرائیل ان ہتھیاروں کا استعمال غیر معمولی طور پر کچھ زیادہ ہی کرتا ہے جس پر اسے امریکہ سے معافی بھی مل جاتی ہے۔ اپنے تقریباً تمام پیش روؤں کے برعکس بنیامن نیتن یاہو فوجی پس منظر نہیں رکھتے۔ ان کی دہشت گردانہ صلاحیتیں ان کی توسیع شدہ مدت حکومت میں بڑے پیمانے پر سامنے آئی ہیں۔ حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کے بدلے میں ایران کی طرف سے اسرائیل پر 180 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس تنازع کا دائرہ کتنا بڑا ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے لبنان، شام اور یمن میں حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ قوتوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے
کیے لیکن ان حملوں میں بھی اسے خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی تاہم اسرائیل کے ان اقدامات سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ، تنازع کتنی زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔اسرائیل کے جدید میزائل دفاعی نظام کے زیادہ تر میزائلوں کو روک دینے کے باوجود اس جنگ کی آگ کے مزید بھڑکنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق، خاص طور پر اسرائیل، اب محدود چھپی ہوئی جنگ کے ‘‘ماڈل’’ سے مطمئن نہیں۔ اسرائیل کے گولان بریگیڈ بیس پر حزب اللہ کے کامیاب ڈرون حملے نے اسرائیل کی فضائی دفاع کی کمزوری کو اجاگر کر دیا ہے اور اس سے تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر مروجہ ورلڈ آرڈر ٹوٹ چکا ہے جب کہ نیا عالمی توازن قائم ہونا باقی ہے۔ امریکہ، تیزی سے عالمی منظرنامے میں عالمی قوت کے طور پر ابھرنے والے چین اور دوبارہ عالمی طاقت بننے کے خواہاں روس سے طاقت کے حصول میں کوشاں ہے۔ امریکہ جسے عسکری صلاحیتوں کے اعتبار سے واضح برتری حاصل ہے کی پوری کوشش ہے کہ چین کو اس تنازع کا حصہ بنائے تاکہ چین نے جو معاشی اور عسکری استحکام حاصل کیا ہے، وہ اسے گنوا دے۔ ماسکو کو یوکرین میں الجھا دینے کے بعد واشنگٹن دو عالمی تنازعات جنوبی بحیرہ چین اور تائیوان یا مشرقِ وسطیٰ میں سے ایک میں چین کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے باوجود چین نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک تائیوان اور جنوبی بحیرہ چین کے تنازع سے گریز کیا ہے۔ چین مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں بھی ملوث ہونے سے اجتناب کر رہا ہے جب کہ اس کے بجائے چین نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد اور اس سے قبل ایران، سعودی سفارتی مفاہمت میں ثالثی کا کردار ادا کر کے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اسرائیل کو عرب پڑوسیوں سے براہِ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لبنان خود افراتفری میں مبتلا ہے۔ مصر فوجی لحاظ سے مضبوط سہی لیکن اب وہ اپنی داخلی سیاسی کشمکش اور معاشی بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اُردن کے پاس محدود فوجی استعداد کے علاوہ اپنے اندرونی اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کافی گہرے ہیں۔ شام کی اسد حکومت کو دس برسوں پر محیط خانہ جنگی اور عالمی قوتوں کی مداخلت نے بے دست و پا کردیا ہے۔ غیر مستحکم عراق میں بھی اتنی سکت باقی نہیں بچی کہ وہ کوئی بامعنی مزاحمت کرسکے۔ خلیجی ریاستیں اسرائیل کے لیے فوجی خطرہ نہیں رہیں۔ایران کے ساتھ مستقبل کی کسی بھی جنگ میں اسرائیل اور مغرب دونوں شامل ہوں گے۔ اسرائیل اب پہلے سے کہیں زیادہ اور بڑے پیمانے پر تصادم کے لیے تیار ہے۔ اس کے بحری بیڑے ایران کے ساتھ ایک بڑی جنگ کے لیے الرٹ ہیں، جو خطے کی سب سے بڑی فوجی تیاریوں میں سے ہے۔ یہ تہران کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ ایران اور اس کی حکومت اس کی قیمت ادا کرے گی۔ روس کے بیانات، روسی حکام کے دورے اور ایران پر کسی بھی فضائی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی امداد کی تیزی سے فراہمی کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے یہ اضافہ 1973 کی جنگ کے بعد سے خطے میں کسی بھی سابقہ تنازعے کے برعکس ہے۔یہ ایران کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی فضولیت پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرسکتا ہے، یا اسے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مجبور کرے گا؟ قاہرہ معاہدہ غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے راستے پر ہے، لیکن اس سے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کی تیاری ختم نہیں ہو گی۔ دہائیوں سے اسرائیل اور ایران نے چھپے ہوئے تنازع کے ذریعے ایک دوسرے کو سبق سکھانے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ تاہم، غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیل کی جارحیت اور مسلسل حملوں نے اس نازک توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے اس کے مضمرات تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل اور ایران دونوں اب ایک دوسرے کے خلاف تنازع کو اگلے
مرحلے میں لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ خطے میں مسلسل فوجی تشکیل، اسرائیل کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کے پیش نظر، اسرائیل ایران جنگ کا امکان بڑھ گیا ہے۔لیکن اسرائیلی رہنما یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دفعہ جنگ میں تیزی آئی تو شاید امریکہ کے علاوہ کوئی دوسرا مغربی ملک اس کی امداد پر آمادہ نہیں ہوگا اور اسرائیلی فوج ایران اور اس کے اتحادی چین اور روس کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں