سندھ حکومت، سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری اور الرٹ رہنے کا حکم
شیئر کریں
یکم ستمبر سے سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی،سیلابی صورتحال سے 52ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ
شمالی اضلاع میں 72اور جنوبی اضلاع میں 106ریسکیو بوٹس کا بندوبست کیا ہے،پی ڈی ایم اے حکام کی مراد علی شاہ کو بریفنگ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو سیلابی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کرنے اور الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس ہوا، بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ یکم ستمبر سے سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے، سیلابی صورتحال کے باعث 52ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اونچے سیلاب کی صورت میں 50 ہزار سے زیادہ خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔پی ڈی ایم اے کے حکام نے بتایا کہ شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس کا بندوبست کیا ہے، ہمارے پاس مچھردانیاں، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، کچن سیٹ بڑی تعداد میں موجود ہیں، میٹرس، پلاسٹک میٹ، پورٹ ایبل ٹوائلٹ، لحاف، سلیپنگ میٹ، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹرز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ گڈو بیراج پر بدھ جمعرات کی درمیانی رات 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے، سیلابی ریلا آنے پر انسانوں اور جانوروں کو کسی صورت نقصان نہیں ہونا چاہیے۔وزیراعلی سندھ نے شمالی اضلاع میں ریسکیو 1122 کا 30 ہزار سے زائد عملہ تعینات کرنے، دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کرنے اور نجی سیکٹر سے بھی ضروری مشینری کا بندوبست رکھنے کی سختی سے ہدایات کیں۔


