قانونی معاملات پر 9 کروڑ روپے خرچ
شیئر کریں
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے 8 لاکھ روپے اڑا دیے ، قانونی فرم کو 70 لاکھ کی ادائیگی
سول سوسائٹی کو شدید تشویش، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا
کراچی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزمیں سرکاری فنڈز کے مبینہ غیر ضروری استعمال کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ادارے کی قانونی حیثیت کے حصول کے لیے 8 لاکھ روپے کی خطیر رقم صرف کی، حالانکہ NICVD ایکٹ 2014 کے تحت اس ادارے کی قانونی حیثیت پہلے ہی واضح ہے ماہرین کے مطابق یہ اخراجات نہ صرف غیر ضروری تھے بلکہ پبلک فنڈز پر ایک غیر ذمہ دارانہ بوجھ بھی ہیں، خصوصا ایسے ادارے میں جو سرکاری فنڈنگ سے چلتا ہے اور عوامی صحت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے مزید برآں، دستیاب ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سات سالوں کے دوران NICVD نے قانونی معاملات پر 9 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی ہے، جو مالیاتی بدانتظامی کی واضح مثال ہے اور شفافیت و احتساب پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدتِ ملازمت کے دوران صرف دو سال میں ایک ہی قانونی فرم کو 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے، جو انتظامی نااہلی اور اختیارات کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے اس صورتحال پر سول سوسائٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوامی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور ادارے کی ساکھ کو بحال رکھا جا سکے.


