سندھ بلڈنگ، پی ای سی ایس ایچ ایس میں درجنوں غیر قانونی پلاٹ انہدام سے محفوظ
شیئر کریں
بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی جانب سے ایف آئی آر درج کروانے کی سفارش پر عملدرآمد نہ ہوسکا
متعدد پلاٹس پر غیر معیاری تعمیرات جاری،مکینوں کا بلڈنگ انسپکٹر پر تعمیراتی مافیا سے ڈیل کرنے کا الزام
ضلع ایسٹ کراچی کے سینئر بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان نے چند ہفتے قبل ایس بی سی اے کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2، 3 اور 6 میں درجنوں مقامات پر تعمیراتی مافیا کی جانب سے غیر قانونی اور غیر معیاری تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان تمام پلاٹس پر تعمیرات فوری طور پر بند کروانے اور متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی سفارش کی تھی۔تاہم ذرائع کے مطابق ان پلاٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے، 132Bاور 84Mسمیت کسی بھی پلاٹ کو انہدام کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس حوالے سے بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان پر علاقہ مکینوں کی جانب سے الزام عائد کیا ہے کہ تعمیراتی مافیا سے ڈیل ہونے کے بعد تعمیراتی مافیا کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ،واضح رہے کہ انسپکٹر کی رپورٹ میں 916C، 880C، 838C، 807C جیسے کمرشل پلاٹس کے علاوہ رہائشی علاقوں میں 121D، 133G، 231A، 94B، 116K سمیت 30 سے زائد مقامات شامل تھے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے اب تک کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے تعمیراتی مافیا میں مزید دلیری پیدا ہو گئی ہے ۔ادھر ایس بی سی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد مناسب کارروائی کی جائے گی۔


