اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور
شیئر کریں
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاورت میں شامل تھے ۔ مشاورت میں منگل کو دوبارہ آنے کی تجویز کی سب نے حمایت کی، مشاورت میں شامل پارٹی رہنماؤں نے ہائیکورٹ سے توہین عدالت کیلئے بھی رجوع کرنے اور سینیٹ و قومی اسمبلی اجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ بھی کیا، منگل کو فیملی ملاقات کے موقع پر کارکنوں کو کال بھی دی جائے گی۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے نمائندوں کے جیل انتظامیہ اور پولیس سے مذاکرات بھی ہوئے ، مذاکرات فیکٹری ناکہ کے قریب نجی عمارت میں ہوئے ، مذاکرات میں اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ جیل، وزیر اعلیٰ کے سی ایس او اور پولیس کے نمائندے شریک تھے ، مذاکرات میں ممبر کے پی اسمبلی مینا خان بھی شامل ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر تحریری وجہ بتانے اور بانی کی صحت سے متعلق یقین دہانی کروانے کا مطالبہ کیا گیا، مذاکرات میں وزیر اعلیٰ کے پی سمیت کسی پارٹی رہنما کی ملاقات کروانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، علیمہ خانم اور وکلاء کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا میں آپ سے نہیں مل سکتا، ہم نے فیصلہ کیا ہے آج نہ قومی اسمبلی نہ سینیٹ کا اجلاس چلنے دیں گے ۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آئندہ منگل کو ہائیکورٹ کے باہر بھی اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی اکٹھے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی گورننس پر میں اپنی انتظامیہ سے رابطے میں ہوں، میں زرداری ،شریف کی طرح پیرا شوٹ کے ذریعے نہیں آیا، میں تنظیم میں کام کے بعد نچلی سطح سے اوپر آیا ہوں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملنے سے انکار کردیا، چیف جسٹس کسی سے ملاقات نہیں کر رہے ، چیف جسٹس نے نہ ایڈوکیٹ جنرل نہ کسی وکیل سے ملاقات کی۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ شب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر دھرنا دے دیا تھا۔


