عام حالات ہوتے تو حکومت سے الگ ہو جاتے، بلاول بھٹو
شیئر کریں
یہ نہیں ہوسکتا کہ (ن) لیگ کھلم کھلا انتخابی ڈاکا ڈالے، ہمیں مارے بھی اور رونے بھی نہ دے، چیٔرمین پیپلزپارٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عام حالات ہوتے تو ہم کب کے حکومت سے الگ ہو چکے ہوتے۔ ہم ان فیصلوں کا ساتھ نہیں دے سکتے جو صرف(ن)لیگ کے مفاد میں ہوں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اپنے صوبے سے آزادکشمیر میں بسیں بھیجتی ہیں اور دوسری طرف یہاں کا آٹا روکتی ہیں۔
کھلم کھلا ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ، ہمارے کارکن کوقتل کیا گیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک حلقے میں 10پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا گیا۔
یہ نہیں ہوسکتا کہ (ن) لیگ کھلم کھلا انتخابی ڈاکا ڈالے، ہمیں مارے بھی اور رونے بھی نہ دے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کی دھاندلی کے ہمارے پاس ویڈیوز کی صورت میں شواہد موجود ہیں۔
ہم نے (ن)لیگ کی دھاندلی کو شواہد کی بنیاد پر بے نقاب کیا ،(ن)لیگ ان کا جواب دے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ہمارا جو ورکنگ ریلیشن شپ ہے وہ شاید ایک وزیراعظم کی حد تک ہی محدود ہو چکا ہے۔
پورے پاکستان کو یاد ہے جی بی کے ووٹ پر بھی ڈاکا ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان انتخابات میں ن لیگ کی دھاندلی کی کوشش کو روک کر انہیں بے نقاب کر دیا تھا۔
جی بی انتخابات حکومت بچانے اور بجٹ پاس کرانے کے لیے وزیراعظم نے شاید میرے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں کسی پارٹی کے نہیں قومی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عام حالات ہوتے ہم کب کے حکومت سے الگ ہو چکے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے 6 ماہ سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہے۔ اپنے کسی ایک انتخابی جلسے میں وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر کو نہیں لے کر گیا تھا۔ پیپلز پارٹی صاف اور شفاف انتخابات پر یقین رکھتی ہے۔


