میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۹ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان
اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔عالمی مالیاتی ادارے کیمطابق آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد رقم جاری ہوگی،ای ایف ایف کے اگلے جائزے کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے،دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی رقم 4۔5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت نے مالی خسارہ کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،ٹیکس نظام بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں،غریب عوام کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی، مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا،مزید کہا گیا ہے کہ معیشت میں بہتری،مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے،مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں،اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے،اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی پالیسیوں نیمعیشت کومزیدمضبوط کیا،ای ایف ایف کے تحت کارکردگی نیسرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا،مالی سال 2025 میں پاکستانی معیشت بحال اورمعاشی سرگرمیاں مزید تیزہوئیں، مہنگائی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے،ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہوئے،مشرق وسطی میں جاری کشیدگی سیمعاشی صورتحال کو خطرات لاحق ہیں، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات کی سختی مہنگائی بڑھا سکتی ہے،یہ صورت حال معاشی ترقی اور کرنٹ اکاؤنٹ پردباؤ ڈال سکتی ہے،حکومت کی قرض پروگرام پر عمل درآمد کیلئے آئی ایم ایف کو اہم یقین دیہانیاں کرادیں۔آئی ایم ایف کیمطابق حکومت نے بجلی کے شعبے میں مقابلے کی مارکیٹ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا،بجلی کی پیداوار کو طلب کے مطابق متوازن کرنے پر زور دیا،گرڈ سسٹم کو مستحکم اور پائیدار بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی،حکومت نے اس سال پرائمری سرپلس کا 1۔2 فیصد کا ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کرادی،اگلے مالی سال پرائمری بیلنس 2 فیصد تک لے جانے کا عزم ہے۔اس کے علاوہ گورننس بہتر بنانے اور کرپشن کم کرنے کے اقدامات کی یقین دہانی کرائی،غیر ضروری رکاوٹیں اور قوانین کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،نجی شعبے کے فروغ اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور اور سرکاری اداروں میں اصلاحات اور نجکاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آئی ایم ایف اورمعاشی ٹیم کے درمیان محتاط مالی پالیسی جاری رکھنے اور،درمیانی مدت میں عوامی قرضہ کم کرنے اورلانگ ٹرم فنانسنگ کی حکمت عملی پراتفاق کیا گیا،ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات میں نظم و ضبط لانے کیاقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا،آئندہ مالی سال سے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔آئی ایم ایف نے وفاق اورصوبوں میں این ایف سی فارمولہ کے تحت منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کیا،ایف بی آر ٹیکس دہندگان کے آڈٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی تیار کرے،ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداوار مانیٹرنگ کے نظام کو وسعت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیاآئی ایم ایف یاایف بی آر کے اندرونی نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے پر کام کرنے اورٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا۔آئی ایم ایف وفد نے کر اچی اوراسلام آباد میں مذاکرات کیے،37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ مکمل کرلیاگیا،موسمیاتی پروگرام آر ایس ایف کادوسرا جائزہ بھی مکمل کرلیاگیا،دونوں جائزوں کی حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ دے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں