
سندھ ،سیلاب متاثرین کے بجائے اوروں کے گھر بنانے کا انکشاف
شیئر کریں
سندھ میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے منظور نظر افراد میں سولر پینل تقسیم کیے جارہے ہیں
لاڑکانہ کی ایک یونین کونسل میں صرف چیئرمین یونین کونسل کا گھر بن رہا ہے، سینیٹرابڑو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور نے سندھ اور بلوچستان کی جانب سے یورپی یونین کی فراہم کردہ گرانٹ کے اخراجات تفصیلات فراہم نہ کرنے پر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹرسیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، کمیٹی نے صوبوں کی جانب سے منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلات نہ دینے پر اظہار برہمی کیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ صوبہ سندھ اوربلوچستان کے منصوبوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں،کمیٹی نے چیف سیکریٹری سندھ کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یورپی یونین کی فراہم کردہ گرانٹ کے اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سندھ میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے منظور نظر افراد میں سولر پینل تقسیم کیے جارہے ہیں، وزارت اقتصادی امور چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلات لے کر بتائے، حکومتی لوگوں میں سولر پینلز تقسیم ہورہے ہیں، اگر سندھ تفصیلات فراہم نہیں کرتا تو ڈونرز کو لکھیں گے کہ بے ضابطگی ہورہی ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے گھر بنانے کے بجائے کسی اور کے بن رہے ہیں، لاڑکانہ کی ایک یونین کونسل میں صرف چیئرمین یونین کونسل کا گھر بن رہا ہے، سندھ کا محکمہ منصوبہ بندی بتائے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے۔منصوبہ بندی کمیشن سندھ نے تفصیلات اگلے اجلاس میں پیش کرنے یقین دہانی کرادی۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے گھروں کی تعمیر کے لییعالمی بینک نے ایک ارب ڈالر دیا ہے، سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے 24 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے کہا کہ وزارت اقتصادی امور نے 2022 کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں، حکومت نے2022 میں 8 ارب ڈالر کا ہدف رکھا تھا، پاکستان کو 2022 کے سیلاب سے نمٹنے کیلئے 10 ارب ڈالرزملے ہیں۔