میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
چلو !! آج ہنستے ہیں!

چلو !! آج ہنستے ہیں!

ویب ڈیسک
پیر, ۲۷ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

پاکستانی قوم بڑی خوشحال قوم ہے ۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ہرروز مہنگائی کے ساتھ زندہ بھی رہتے ہیں اورہنس بھی لیتے ہیں، اب
اس سے بڑی خوشحالی اورکیا ہوگی؟ ہمارے ہاں اب سب سے مقبول کھیل ”چھپن چھپائی ” نہیں بلکہ ”چھپاؤ بچاؤ ” ہے ۔تنخواہ آتے ہی سب
سے پہلے اسے بلوں، کرایوں اورادھار والوں سے چھپایا جاتا ہے ۔ ایک دوست نے بڑے فخر سے بتایا،یار اس مہینے بڑا کنٹرول کیا ہے ،
میں نے پوچھا، کیسے ؟ کہنے لگا، تنخواہ آتے ہی خرچ نہیں کی، پہلے دو دن اسے صرف دیکھتا رہا۔ اب تو حال یہ ہے کہ جیب میں پیسے ہوں تو آدمی خود کو مشکوک سمجھنے لگتا ہے ،بار بار جیب ٹٹولتا ہے کہ کہیں کسی اور کے تو نہیں؟ گھر میں بھی ماحول بدل چکا ہے ، پہلے امی پوچھتی تھیں، بیٹا کھانا کھایا؟ اب پوچھتی ہیں، بیٹا، کچھ چھوڑا بھی ؟
بازار جانے سے پہلے بندہ وضو کر کے جاتا ہے ،کیونکہ وہاں جا کر جو صبر کا امتحان ہوتا ہے ، وہ کسی عبادت سے کم نہیں۔ اور سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ ہم اب بھی مہنگائی پر بات نہیں کرتے ، ہم اس سے دوستی کر چکے ہیں۔ روز ملتے ہیں، حال پوچھتے ہیں، اور آخر میں ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں: ”چلو کل پھر ملتے ہیں ” ۔ ہمارے ہاں اب امیری کی نئی تعریف یہ ہے کہ جس کے گھر میں چائے کے ساتھ
بسکٹ بھی آ جائے ، لوگ اسے خاموشی سے سلام کر کے بیٹھ جاتے ہیں، لیکن ماننا پڑے گا، ہم زندہ دل لوگ ہیں ،حالات جیسے بھی ہوں، ہم نے ہنسنا نہیں چھوڑا، کیونکہ ہمیں پتا ہے ، اگر ہم نے ہنسنا چھوڑ دیا، تو حالات ہم پر ہنسنا شروع کردیں گے ۔
ہمارے ہاں پیٹرول اب صرف ایندھن نہیں رہا، جذباتی وابستگی بن چکا،گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے سے پہلے بندہ گاڑی سے زیادہ خود کو تسلی دیتا ہے ،بس تھوڑا سا ہی ڈلوانا ہے ۔ پورا ٹینک بھرنے کی غلطی نہیں کرنی۔پیٹرول پمپ پراب دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں،ایک وہ جو پورا ٹینک بھرواتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو انہیں حسرت سے دیکھتے ہیں۔ اورجو فی لیٹر ٹیکس ہے ، وہ اتنا باوقار ہے کہ اب پیٹرول کم اور ٹیکس زیادہ محسوس ہوتا ہے ۔ بعض لوگ تو مذاق میں کہتے ہیں۔بھائی ہمیں ٹیکس ہی ڈال دو، پیٹرول تو ویسے بھی کم ہی چاہیے ۔گھر کا بجٹ اب ایک سسپنس ڈرامہ بن چکا ہے ،ہر مہینے نئی قسط، نیا بل، نیا جھٹکا۔امی حساب لگاتے لگاتے ایک دن بولیں،بیٹا، یہ ریاضی نہیں،یہ جادو ہے ، پیسے آتے کہاں ہیں اورجاتے کہاں ہیں؟
بازارکا حال بھی دلچسپ ہے ، سبزی والے سے قیمت پوچھو تو وہ ایسے بتاتا ہے جیسے کوئی راز افشا کر رہا ہو،بھائی آہستہ سنو۔ ٹماٹر آج اتنے کے ہیں، اور آپ دل ہی دل میں کہتے ہیں، بھائی آہستہ ہی بتاؤ، زور سے سنا تو دل رک جائے گا۔غربت کی شرح بڑھ رہی ہے ، مگر حوصلہ بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے ۔ اب لوگ مہمان کو چائے پیش کرتے ہوئے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے ہیں، بھائی چینی کم ہے ، مگر محبت پوری ہے ۔ ہماری اصل مہارت یہی ہے کہ ہم ہر مشکل کو مذاق میں بدل دیتے ہیں، کوئی اور قوم ہوتی تو شاید پریشان ہو جاتی۔ ہم ہیں کہ کہتے ہیں،چلو جی زندگی ہے ، گزر ہی جائے گی۔ اور واقعی گزر رہی ہے ،بس فرق یہ ہے کہ پہلے ہم زندگی گزاررہے تھے ، اب زندگی ہمیں گزاررہی ہے ۔
اب آتے ہیں اس خوشحالی کے اصل راز کی طرف،یعنی ہماری ” ایڈجسٹمنٹ پاور”۔ہم وہ قوم ہیں جو ہرنئی مہنگائی کے ساتھ خود کو ایسے
ایڈجسٹ کر لیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پہلے چائے میں دو چمچ چینی ڈالتے تھے ، پھر ایک کر دی، اب آدھی رہ گئی ہے ، کچھ لوگوں نے تو احتیاطاً چینی کو صرف دیکھنا شروع کر دیا ہے ،کہیں عادت ہی نہ پڑ جائے ۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے ،میں نے مہنگائی کا بہترین حل نکال لیا ہے ،میں نے پوچھا ،کیا۔ ؟ بولے ! خواہشات ختم کردی ہیں۔میں نے کہا،بھائی !! آپ تو سیدھا درویش بن گئے ہیں۔ بجلی کا بل اب دھمکی لگتا ہے ، گھر میں جب بل آتا ہے تو سب ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کسی نے بریکنگ نیوز سنا دی ہو،خبردار !! اب کوئی فالتو بلب نہیں جلائے گا۔اور گیس کا حال تو یہ ہے کہ چولہا جل جائے تو گھر والے ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔آج قسمت اچھی ہے ، چائے بن ہی جائے گی۔ مہنگائی نے ہمیں بہت کچھ سکھا دیا ہے ، پہلے ہم چیزیں خریدتے تھے ، اب صرف پوچھتے ہیں، پہلے ریٹ سنتے تھے ، اب ریٹ سن کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں،کیونکہ جواب دینے کے لیے الفاظ بھی مہنگے ہو چکے ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی خوشی کے معیار بھی ایڈجسٹ کر لیے ہیں، اب خوشی یہ نہیں کہ کچھ نیا خرید لیا، بلکہ خوشی یہ ہے کہ پرانا ابھی تک چل رہا ہے ۔ اور شاید یہی ہماری سب سے بڑی طاقت بھی ہے اورکمزوری بھی، طاقت اس لیے کہ ہم ہر حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔ اورکمزوری اس لیے کہ ہم ہرحال کو قبول بھی کر لیتے ہیں۔ ہم ہنستے ہیں، مذاق کرتے ہیں۔ اورہرمشکل کو ہلکا بنا دیتے ہیں، مگرکہیں نہ کہیں، اسی ہنسی کے پیچھے ایک سوال چھپا رہتا ہے، کیا ہم واقعی حالات پرہنس رہے ہیں، یا حالات ہم پرہنس رہے ہیں؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں