میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، پی آئی بی کالونی میں غیرقانونی تعمیرات کا بے قابو سلسلہ جاری

سندھ بلڈنگ، پی آئی بی کالونی میں غیرقانونی تعمیرات کا بے قابو سلسلہ جاری

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۶ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

وقار ہاشمی اور آصف شیخ پرضوابط نظر انداز کرکے کالونی کا نقشہ بدل ڈالنے کے الزامات
ایس کے 95اور 1002پر خلاف ضابطہ تعمیرات سے نظام تباہ، مستقبل خطرے میں

ضلع شرقی کی معروف رہائشی پیر الہٰی بخش کالونی المعروف (پی آئی بی) میں شہری قوانین کو ٹھکراتے ہوئے غیرقانونی تعمیرات کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے ، جس میں شہری انتظامیہ کے دو افسران کی مبینہ سرپرستی اور معاونت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار ہاشمی اور آصف شیخ نے منظور یافتہ نقشہ جات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تعمیرات کی راہ ہموار کی ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کالونی کا بنیادی ڈھانچہ اب تباہی کے دہانے پر ہے ۔’یہ صرف مکانوں کی تعمیر نہیں،بلکہ ہماری سڑکوں، پانی کے نکاس اور ہوا تک کے حق پر ڈاکہ ہے ‘،کالونی کے ایک طویل عرصے سے رہائشی، عبدالستار احمد، نے بتایا کہ ناجائز طور پر اٹھائی گئی عمارتیں نہ صرف راستے تنگ کر رہی ہیں،بلکہ آبادی کے دباؤ نے پہلے سے کمزور نظام کو ناکارہ بنا دیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سابق بلدیاتی ملازم نے دعویٰ کیا کہ ملوث افسران متعلقہ شکایات اور انکوائری رپورٹس کو دبانے میں مصروف ہیں، تاکہ ان غیرقانونی سرگرمیوں پر پردہ ڈالا جا سکے ۔ان کے مطابق، ’یہ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ نہیں،بلکہ منصوبہ بند طریقے سے کالونی کے جغرافیائی اور انتظامی نقشے کو بدلنے کی کوشش ہے‘ ۔اس تمام تر صورت حال کے باوجود،متعلقہ میونسپل اداروں یا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی واضح موقف یا کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے ۔ شہری حقوق کے کارکن، سبین محمود، کا کہنا ہے کہ، ’یہ معاملہ صرف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ آیا حکومت اپنے ہی افسران کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے ‘۔زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر ایس کے 95اور 1002 پر خلاف ضابطہ تعمیرات زمین پر موجود ہیں ،رہائشیوں اور سماجی کارکنوں نے نگران وزیر بلدیات اور اینٹی کرپشن اتھارٹی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا موقف ہے کہ ملوث افسران کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا اور غیرقانونی ڈھانچے گرانا شروع نہ ہوئے ، تو وہ ہائی کورٹ کا رخ کریں گے ۔اس رپورٹ کی تیاری کے دوران، جرأت سروے ٹیم کی جانب سے الزامات کے حامل افسران وقار ہاشمی اور آصف شیخ سے ان کے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ متعلقہ محکمے کے ترجمان نے صرف یہ کہا کہ، ’معاملہ پرنوٹس لیا گیا ہے اور مناسب کارروائی کی جائے گی‘۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں