
شام کے مظلوموں کے لیے آواز اُٹھانا فرقہ واریت ہے ؟ ( حصہ اول )
شیئر کریں
سید عامر نجیب
ہمارے دور کے دانشوروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی دانش کا 90 فیصد صرف کتابی مطالعے پر مبنی ہوتا ہے جبکہ متوازن دانش میں کم از کم 50 فیصد حصہ ذاتی تجربات ، مشاہدات اور زمینی حقائق کے مطالعے کا ہونا چاہیے ۔ جس طرح کتابی مطالعہ کسی کو ڈاکٹر نہیں بنا سکتا ،اسکے لیے تجربات لازمی ہیں۔ اسی طرح محض کتابی مطالعہ کسی کو غائب دماغ پروفیسر تو بنا سکتا ہے لیکن ایسا حقیقی دانشور نہیں بنا سکتا جس کی دانش سماج کے کسی مسئلے میں درست رہنمائی کر سکتی ہو ۔ انسان سماج کی بنیادی اکائی ہے اور اللہ کی قدرت یہ ہے کہ جس طرح انسانوں کے فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح ان کی طبیعتیں ، مزاج اور نفسیات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہےں ،یکسانیت محض جزوی ہوسکتی ہے ۔اسی لیے سماج کو دو اور دو چار کی طرح اٹل قوانین کی بنیاد پر نہیں چلایا جا سکتا ،اسی لیے دنیا بھر میں قوانین کے اطلاق کرتے ہوئے مخصوص حالات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔ اکثر کتابی دانش اصولوں اور ضابطوں کا اندھا اطلاق کر کے سماج پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔
شام کے مسلمانوں پر ہونے والے لرزہ خیز مظالم کو دنیا بھر میں ایک انسانی المیے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ گویا کہ اس معاملے میں انسان دوست اور با ضمیر لوگ خواہ وہ مغرب سے ہوں کہ مشرق سے اور ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو وہ ایک طرف ہیں اور مظالم ڈھانے والے بے رحم دوسری طرف ہیں۔ شام کے مظلوموں کے حق میں آواز اُٹھانا ان کی مدد کرنا اور اس تنازع کے ظالموں کی مذمت کرنا ان پر اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی دباﺅ ڈالنا یا اپنی اپنی حکومتوں اور او آئی سی اور اقوام متحدہ سے ظلم روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کے مطالبے کرنا کوئی انصاف پسند اسے غلط قرار نہیں دے سکتا ۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں کے بعض اہل دانش اس طرز عمل کو بھی خلاف اسلام اور ملکی مفادات کے منافی قرار دے رہے ہیں ۔
معروف کالم نویس جناب خورشید ندیم کے 24 دسمبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان ” حلب کا فساد اور پاکستان “ ہے ۔ اس کا آغاز ان جملوں سے کیا گیا ہے ۔ ” حلب کا فساد بہت دل سوز ہے ،کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسے پاکستان اور عالم اسلام کے گلی محلے تک پھیلا دیا جائے ۔ یہ اسکی مذہبی تعبیر کے بغیر ممکن نہیں “ ۔ محترم خورشید ندیم صاحب نے اپنے کالم میں حلب کے فساد کو ایک سادہ واقعہ قرار دیا، ان کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں آمریت کے خلاف جو عمومی تحریک پیدا ہوئی یہ اس کا شاخسانہ ہے ۔ یہ اقتدار کا بے رحمانہ کھیل ہے ،دونوں طرف قاتل بھی ہیں مقتول بھی ہیں ،دونوں فریقوں میں کوئی ایک بھی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا ،اس تنازعے کا مسلمانوں سے بحیثیت ایک مذہبی گروہ کیا تعلق ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح پاکستانیوں کا بھی اس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جو لوگ مقامی سطح پر فرقہ وارانہ آگ بھڑکانا چاہ رہے ہیں وہ اسے شیعہ سنی رنگ دے رہے ہیں ۔ “ خورشید ندیم کا ماننا ہے کہ ” مشرق وسطیٰ کے دو مسلمان ممالک طاقت کے اس کھیل میں شریک ہیں ،یہ محض اتفاق ہے کہ دونوں کا تعلق دو مختلف مسالک سے ہے اور دونوں اس معرکے میں مسلک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں ،ہمیں بطور مسلمان اور بطور پاکستانی اس جنگ سے دور رہنا چاہیے ،دونوں حیثیتوں سے ہمارا کردار بس اتنا ہے کہ ہم ثالث بالخیر بن جائیں اور یہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کسی فرد کی نہیں “ ۔ محترم خورشید ندیم اپنے کالم میں حلب کے مظلوموں کے لیے جمہوری روایات کے مطابق آواز بلند کرنے والوں کو نیشنل ایکشن پلان کی زد میں لانے کے خواہشمند ہیں اور وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ”پاکستان میں بہت سی جماعتیں حلب کے نام پر لوگوں کے جذبات مشتعل کر رہی ہیں اور حکومت ایکشن پلان کو بروئے کار کیوں نہیں لا رہی“۔ خورشید ندیم صاحب آخری پیرا گراف میں لکھتے ہیں ” عام شہریوں کو اس کھیل کا ایندھن بنانے سے بچانا اس وقت اقوام متحدہ اور انسانیت پر یقین رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے ۔ ہمیں بطور ریاست اور قوم اس کے لیے آواز اُٹھانا چاہیے “ ۔
محترم خورشید ندیم صاحب کے کالم کا مدعا کچھ ان کے لفظوں میں اور کچھ تشریح کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے جو زیر بحث کالم کو مکمل طور پر پڑھنا چاہیں وہ 24 دسمبر کے روزنامہ دنیا کوانٹر نیٹ پربآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ جناب خورشید ندیم کا اس کالم میں خاص ھدف پاکستان میں شام کے مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنے والے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بد نیت نہیں لیکن انھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ آواز فرقہ واریت کی وجہ سے بلند ہو رہی ہے اور مزید فرقہ واریت کا سبب بنے گی ،نیز ان کے خیال میں اس طرح مشرق وسطیٰ کی جنگ اپنے ملک میں درآمد ہو جائے گی ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے لیکن کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ شام کا المیہ عرب بہار کا سادہ واقعہ نہیں بلکہ اس کے پس پردہ طاقتور عالمی قوتوں کا ایجنڈاہے، خطے میں ایران وہ واحد ملک ہے جو اپنے ارادے اور اپنے منصوبے سے اس جنگ میں شریک ہے۔ باقی ممالک پر یہ جنگ مسلط کردی گئی ہے ۔ عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کر دیا گیا ہے اور اس تباہی کو بتدریج وسعت دی جا رہی ہے ،یمن اور سعودی عرب بھی اس کا نشانہ ہیں ۔ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم مسلمان دشمن عالمی قوتوں کا اثاثہ بن گئے ہیں ۔ ایرانی انقلاب کو ایران سے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کا منصوبہ پاکستان میں بھی بروئے کار لانے کی عرصے سے کوششیں کی جا رہی ہیں ان کوششوں نے پاکستان کے اہل تشیع کو خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔ ایرانی اثر و نفوذ نے پاکستان کے اہل تشیع کی ترجیحات کو ملکی مفاد کے دائرے سے نکال دیا ہے ۔ تعلیم یافتہ ، سرکاری محکموں اور ملکی میڈیا میں گہرا رسوخ رکھنے والی اہل تشیع برادری اپنے ملک کے لیے سوچنے کے بجائے اپنے گروہ اور ایران سے درآمد شدہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔یہی وجہ ہے اس بے چینی کی جو سنی مکاتب فکر میں پائی جا رہی ہے اور جو رد عمل میں نفرتوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھنے لگے ہیں ۔ بلاشبہ فرقہ واریت ہمارے ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے، اس نے ہماری قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن ہمیں ایمانداری سے اسکے اسباب اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہیے ۔ شام کی صورتحال بلا شبہ فرقہ وارانہ عصبیت میں اضافے کا سبب ہے لیکن شام کے معاملے میں ظالم اور مظلوم کا درست تعین کرتے ہوئے ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنا چاہیے، نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا یہی تقاضہ ہے کہ ظالموں کو ظلم سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا یہی دراصل ظالموں کی مدد ہے ۔ خورشید ندیم صاحب ! ظلم بھی بڑے بھیانک ہیں، ایسے مظالم کہ دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی قانون اور کوئی ضابطہ اسے جواز فراہم نہیں کر سکتا ۔ ( جاری ہے )
٭٭