میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

ویب ڈیسک
پیر, ۲۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں
انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو مقدمہ کریں۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی کون سی زمین ہے جو ری نیو نہیں ہوئی اور دوبارہ لیز نہیں دی گئی اور لیز ختم ہونے پرحکومت نے آکشن کیلئے پیش کی۔انہوں نے کہاکہ اولڈ سٹی ایریا کا ایک پلاٹ دکھا دیں جسے آکشن میں ڈالا گیا ہو، جن زمینوں کی لیز ایکسپائر ہوتی ہے ان ہی کو ری نیو کیا جاتا ہے۔99سالہ لیز ختم ہونے پر آج کے ریٹ کے مطابق بیچنے پر کورٹ کیسز ہوئے ہیں، ایک پلاٹ بھی اس طرح فروخت نہیں ہوا، لیز ری نیو ہونا غیرقانونی نہیں۔ایک سوال کے جواب مین فاروق ستار نے کہا کہ اگرلیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے کیس چلائیں، عبدالستارافغانی، نعمت اللہ خان اور مجھ پر کیسز بنائیں۔گل پلازہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ سانحہ سوا 10 بجے شروع ہوا، وزیراعلی ،میئر کراچی، وزرا اور مشیر کہاں تھے؟ حکام اسلام آباد میں تھے تو کم از کم میڈیا کے ذریعے پیغام پہنچا دیتے کہ اہلیان کراچی کو تنہا نہیں چھوڑوں گا، وزیراعلی22اور میئر کراچی 23گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے کیلئے کمرشل ہائیڈرنٹس سے پانی بھرا جا رہا تھا، سڑے ہوئے بائوزرز کو آگ بجھانے کیلئے بھیجا جارہا تھا، پی پی نے فٹ سول ارینا، پیڈل ارینا بنائے، پارکوں کا ستیاناس کردیا۔متحدہ رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے ریڈ لائن منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو پارہا، حب ڈیم اور شاہراہ بھٹو تباہ ہوگئے، کریم آباد انڈر پاس ان سے نہیں بن رہا، گلستان جوہر کا انڈرپاس، کورنگی فلائی اوور حکومت نہیں بناپا رہی۔پی پی کے فور منصوبے کو 14 سال تک لے کر بیٹھی رہی اور مکمل نہیں ہوا، وفاقی حکومت کو کے فور منصوبہ لینا پڑا، واپڈا نے 3 سال میں ایم کیو ایم کی نگرانی میں 75 فیصد کام مکمل کیا۔اگلے سال کے فور سے26کروڑ گیلن پانی کراچی کو دے رہے ہیں، 10کروڑ گیلن کے پانی کیلئے کے ٹو منصوبہ میں لایا، کے تھری منصوبہ مصطفی کمال لائے، کے فور منصوبہ بھی ایم کیوایم ہی لے کر آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2010میں 18ویں ترمیم کے بعد مرکز کے زیادہ تر اختیار صوبوں کو مل گئے، پرویزمشرف دور کے بلدیاتی قانون کو رول بیک کیا گیا۔18ویں ترمیم کے وقت کہا گیا تھا بلدیاتی قانون کو رول بیک نہیں کریں گے، ہمیں کہا گیا تھا بلدیاتی حکومتوں کو مزید مضبوط کریں گے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ہم سے وعدے کیے تھے لیکن عمل نہیں کیا۔رول بیک کرکے بلدیاتی حکومتوں سے اختیارات لے لیے گئے، بلدیاتی اختیارات سے متعلق ہماری تجویزکو27ویں ترمیم میں شامل کیے جانا تھا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تجاویز کو ترمیم میں شامل کرینگے، وزیراعظم نے دو دن بعد کہا تجاویز شامل کرکے پیپلزپارٹی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، وزیراعظم نے وعدہ کیا28ویں ترمیم میں پی پی کو ناراض کرنا بھی پڑا تو تجاویز شامل کریں گے۔فاروق ستارنے کہا کہ این ایف سی، ایم کیوایم کی تجاویز28ویں ترمیم میں شامل ہونگی، مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں 28ویں ترمیم کا عندیہ ملا ہے، پی پی حکومت بانجھ ہے، کوئی منصوبہ بناتے ہی نہیں اگر بنتا بھی ہے تو رکاوٹیں آجاتی ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں