میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قائداعظم محمد علی جناح کا تصورِ قومی زبان

قائداعظم محمد علی جناح کا تصورِ قومی زبان

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۵ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

محمد بلال رؤف

بابائے قوم ، قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی فکری، سیاسی بصیرت اور آئینی جدوجہد کا نہایت اہم مگر نظر انداز کیا جانے والا ایک پہلو قومی زبان اردو کے بارے میں ان کا واضح، دوٹوک اور اصولی مؤقف ہے ۔

قائدِاعظم کے نزدیک زبان محض ذریعۂ ابلاغ نہیں بل کہ قوم کی فکری وحدت، تہذیبی شناخت اور ریاستی استحکام کی اساس ہوتی ہے ۔ اسی تصور کے پیشِ نظر قائداعظم نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے پر زور دیا اور باقاعدہ اپنے جلسے ، اپنی تقاریر اور اپنے خطبات میں جا بہ جا اظہار کیا ہے ۔

قائداعظم نے یہ تصورجذباتی یا لسانی بنیاد پر نہیں بل کہ تاریخی، سیاسی، آئینی اور عملی دلائل کے ساتھ پیش کیا تھا ۔

قائدِاعظم اس حقیقت سے آشنا تھے کہ برصغیر میں مسلمان ایک ایسی قوم کی صورت جلوہ گر ہو رہے ہیں جس کی تہذیبی شناخت صدیوں کے تاریخی پیش رفت سے گزر کر تشکیل پائی ہے ۔ اس شناخت میں مشترکہ تاریخی شعور، اسلامی اقدار، اور ایک رابطے کی زبان بنیادی عناصر تھے۔ اردو بھی اسی تاریخی تسلسل کی ایک علامت تھی۔

یہ زبان نہ کسی ایک صوبے یا علاقے کی نمائندہ تھی اور نہ ہی کسی نسلی گروہ کی، بل کہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کی مشترکہ تہذیبی آواز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قائدِاعظم نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کو قومی وحدت کے لیے ناگزیر سمجھا۔قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد، قائدِاعظم کے خطبات اور بیانات اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ زبان کے مسئلے کو محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ریاستی تشخص کا بنیادی سوال تصور کرتے تھے ۔ 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا:

Let me make it very clear to you it is no doubt that the State
language of Pakistan is going to be Urdu and no other language.

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی و فکری اعلان تھا۔ اس اعلان کے پیچھے قائدِاعظم کی یہ سوچ کارفرما تھی کہ ایک نئی ریاست، جو نسلی، جغرافیائی اور ثقافتی تنوع رکھتی ہو، اس کے لیے ایک مشترک قومی زبان ناگزیر ہوتی ہے تاکہ انتظامی وحدت، قومی ہم آہنگی اور فکری یکجہتی قائم رہ سکے۔

قائدِاعظم نے اسی خطاب میں یہ بھی واضح کیا کہ علاقائی زبانوں کا احترام اپنی جگہ مسلم ہے ، مگر قومی سطح پر ایک ہی زبان ریاستی نظم کو مضبوط بنا سکتی ہے ۔قائدِاعظم کے نزدیک اردو کی اہمیت اس لیے بھی تھی کہ یہ زبان تحریکِ پاکستان کی فکری اور سیاسی جدوجہد کی امین رہی ہے ۔ مسلم لیگ کی قراردادیں، سیاسی بیانات، عوامی جلسے اور اخبارات بڑی حد تک اردو ہی کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں تک پہنچے ۔ اردو نے برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کیا اور انہیں ایک الگ قوم کی حیثیت سے سوچنے پر آمادہ کیا۔ قائدِاعظم اس تاریخی حقیقت سے بہ خوبی آشنا تھے ، اسی لیے انہوں نے اردو کو پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے جوڑ کر دیکھا۔قائدِاعظم کے نزدیک:

The state language , therefore , must obviously be Urdu ,
A language that has been nurtured by a hundred millions
Muslims of this sub- continent , a language understood
Throughout the length and the breadth of Pakistan and ,
Above all , a language which , more than any other
Provincial language , embodies the best that us in Islamic
Tradition and is the nearest to the language used in other
Islamic countries

اس بیان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قائدِاعظم اردو کوفقط ایک زبان ہی نہیں بل کہ اسلامی تہذیب اور مسلم ثقافت کا عکاس سمجھتے تھے ۔ ان کے نزدیک اردو دراصل مسلمانوں کا وہ فکری سرمایہ تھی جس نے غلامی کے دور میں بھی مسلمانوں کو اپنی شناخت برقرار رکھنے میں مدد دی۔ اسی سبب وہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھنے کے خواہشمند تھے جس کی قومی زبان اس کی نظریاتی روح سے ہم آہنگ اور فکری تسلسل کی آئینہ دار ہو۔

سیاسی اعتبار سے بھی قائدِاعظم اردو کے حق میں اس لیے تھے کہ یہ زبان تحریکِ پاکستان کے اجتماعی شعور کی نمائندہ بن چکی تھی۔ اردو صحافت نے مسلمانوں کو سیاسی بیداری دی، اردو ادب نے آزادی کی تڑپ پیدا کی، اور اردو خطابت نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ قائدِاعظم اس تاریخی کردار سے بخوبی آگاہ تھے اور اسی شعور کے تحت وہ اردو کو نئی ریاست کی فکری اساس بنانا چاہتے تھے ۔ ان کے نزدیک اردو دراصل پاکستان کے نظریۂ وجود کی لسانی علامت تھی ۔ ان کا دوسرا سیاسی نقطۂ نظر انتہائی مضبوط تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر نئی ریاست میں زبان کے معاملے کو علاقائی بنیادوں پر چھوڑ دیا گیا تو یہ اختلاف، علاقائی تقسیم کا بارعث بنے گا اور ملک میں بد نظمی ، انتشار ، صوبائیت اور صوبائی تعصبات کو جنم دے گا۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر انہوں نے اردو کو ایک غیر جانبدار قومی زبان کی حیثیت سے پیش کیا تا کہ کسی ایک صوبے کی اجارہ داری نہ ہو۔ قائد کے نزدیک اردو ایک پل کی حیثیت رکھتی تھی جو مختلف ثقافتوں، علاقوں، سیاسی و اقتصادی ترقی اور قومیتی اکائیوں کو آپس میں جوڑ سکتی تھی۔
قائدِاعظم نے اپنے خطبات اور بیانات میں کئی بار اس بات کی تاکید کی کہ قومی زبان کا نفاذ تدریجی اور منصفانہ ہونا چاہیے ، لیکن اس کے اصولی فیصلوں میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔ انہیں علم تھا کہ قانون سازی، عدالتی نظام، ریاستی اداروں،اور تعلیمی نظام میں قومی زبان کا نفاذ عوام کو ریاست کے قریب لاتا ہے اور جمہوری شعور کو بیدار اور مضبوط بناتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ :

Make no mistake bout it. There can be only one state
Language if the component parts if this state are to
March forward in unison and that language , in my
Opinion , can only be Urdu

ان کے مطابق اگر ریاستی امور عوام کی زبان میں نہ طے کیے گئے تو عوام اور ریاست کے درمیان ایک مستقل فاصلہ پیدا ہوجائے گا ۔ جو ملکی سالمیت کو پروان چڑھانے میں رکاوٹ کا باعث بنے گا ۔ ان کے خیال میں اس وقت اردو ہی وہ واحد زبان تھی جو عام آدمی، کسان، مزدور، طالب علم اور متوسط طبقے کے لوگوں کو ریاستی نظام سے جوڑ سکتی تھی۔ اور اسی بنیاد پر انہوں نے قومی زبان کے نفاذ کو جمہوری عمل کی روح قرار دیا کہ ایک ایسی ریاست جہاں قانون، عدالت، انتظامیہ اور تعلیم عوام کی سمجھ میں آنے والی زبان میں ہو، وہی حقیقی معنوں میں عوامی ریاست کہلا سکتی ہے ۔

قائدِاعظم کے اس واضح اور دوٹوک مؤقف کو اگر ان کی مجموعی آئینی اور سیاسی فکر کے تسلسل میں دیکھا جائے تو یہ بات اور بھی زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ اردو کا مسئلہ ان کے نزدیک محض لسانی ترجیح نہیں بلکہ ریاستی نظم، قومی تشخص اور فکری خود مختاری کا بنیادی ستون تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ نوآزاد ریاستیں اپنی قومی زبان کے ذریعے ہی اپنی فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اردو کے نفاذ کو ایک ایسے قومی فریضے کے طور پر دیکھا جو پاکستان کو فکری غلامی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔

قائدِاعظم کے بیانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مقامی یا علاقائی زبانوں کے وجود کے منکر نہیں تھے ۔ بل کہ ان کے نزدیک یہ زبانیں پاکستان کے ثقافتی حسن کا حصہ ہیں ۔ لیکن ن کا اصرار اس بات پر تھا کہ ثقافتی تنوع اور قومی وحدت میں فرق کو سمجھا جائے ۔ کیوں کہ علاقائی زبانیں ملک کی ثقافت کو مضبوط کرتی ہیں، مگر قومی زبان ملکی ریاست کو مضبوط بناتی ہے ۔ اگر قومی سطح پر ایک مشترک زبان نہ ہو تو قوم فکری طور پر بکھر جاتی ہے اور ریاست کمزور ہو جاتی ہے ۔ اس ضمن میں ان کا مؤقف تھا کہ :

Without state language , no nation ,
can remain tied up solidly And function

آج ان کے اس مؤقف کو نظر انداز کر دینا حقیقتاً ان کے قومی وژن سے انحراف کے مترادف ہے ۔ کیوں کہ اردو کے بارے میں قائدِاعظم کا تصور صرف ماضی کی یادگار نہیں بل کہ ایک زندہ قومی مسئلہ ہے ، جس کا تعلق آج بھی پاکستان کی وحدت، تعلیمی ترقی اور فکری خود مختاری سے جڑا ہوا ہے ۔ ان کے افکار اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جب تک قومی زبان کو اس کا آئینی، تعلیمی اور انتظامی مقام نہیں دیا جاتا، تب تک ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔اور اس مؤقف کو نہ ماننے والے کو ملک دشمن کہا :

Anyone who tries to mislead you is really
The enemy of Pakistan

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے نزدیک اردو صرف ایک زبان نہیں تھی بل کہ پاکستان کی روح، اس کی فکری شناخت، ایک پر عزم ماضی کی
امین اور اس کی قومی وحدت کی ضامن بی تھی۔ ان کے خطبات اور بیانات آج بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایک قوم اپنی زبان کے ذریعے ہی
تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہے ، اور جو قوم اپنی قومی زبان سے غافل ہو جائے ، وہ رفتہ رفتہ اپنی فکری آزادی بھی کھو بیٹھتی ہے ۔قائدِاعظم کے
مجموعی افکار کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اردو کے بارے میں ان کا مؤقف کسی جذباتی تعصب کا نتیجہ نہ ہی اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ
عارضی سیاسی دباؤ کا نتیجہ تھا بل کہ یہ ایک پختہ شعور، تاریخی بصیرت اور سیاسی حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ اور ایک ہمہ جہت قومی وژن کا حصہ تھا۔

وہ پاکستان کو ایک مضبوط، خوددار اور نظریاتی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے ، اور اس وژن میں اردو کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ قومی زبان کا سوال دراصل قومی وحدت، نظریاتی استحکام اور سیاسی خودمختاری کا سوال ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں