میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گریٹر کراچی پلان 2047، شہرقائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج

گریٹر کراچی پلان 2047، شہرقائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج

ویب ڈیسک
منگل, ۲۵ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

دباؤ کی بڑی وجہ لوگوں کا روزگار کی خاطر کراچی آنا ہے ، آبادی ساڑھے 4لاکھ سے 2کروڑ تک پہنچ چکی
گریٹر کراچی پلان 1952کراچی ڈیولپمنٹ پلان 1974 مشرف دور کے ڈیولپمنٹ پلان پر عمل نہ ہو سکا

گریٹر کراچی پلان 2047 کے حوالے سے شہرِ قائد پر بڑھتا ہوا آبادی کا دبا بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔حکومت سندھ کراچی کے لیے ایک نئے ماسٹر پلان پر کام کر رہی ہے ، جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کا نام دیا گیا ہے ۔ اس پلان کے اہم نکات تو ابھی سامنے نہیں آئے تاہم ماہرین کی نظر میں شہر پر بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ شہر کی منصوبہ بندی کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کراچی ملک کا واحد شہر ہے جس کی آبادی میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک44گنا اضافہ ہوا ہے ۔ قیام پاکستان تک کراچی کی آبادی ساڑھے 4لاکھ تھی اور اب یہ شہر 2کروڑ سے زیادہ آبادی کا شہر بن چکا ہے ۔2023کی مردم شماری کے مطابق 2017 سے 2023 تک صرف 5 سال میں کراچی کی آبادی میں 40لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے ۔ 2017میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ48 لاکھ تھی جو 2023 میں بڑھ کر ایک کروڑ 88 لاکھ ہوگئی۔ ان 5 برس میں ملک کے دیگر بڑے شہروں کی آبادی میں اس تیزی سے اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی آبادی بڑھنے کے بجائے 19 لاکھ کم ہوئی کیونکہ وہاں سے کراچی آنے والوں کی تعداد ملک کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت زیادہ رہی ہے ۔ ورلڈ بینک سے منسلک ایک عالمی ادارے کوریا گرین گروتھ ٹرسٹ فنڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح1.5 فیصد (ایک اعشایہ پانچ فی صد)ہے جب کہ کراچی میں یہ شرح 6 فیصد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 2030تک کراچی کی آبادی 28ملین 2کروڑ 80 لاکھ تک بڑھ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020 کے مطابق شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سبب ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کا روزگار کی خاطر کراچی آنا ہے جب کہ شہر میں بڑی تعداد میں افغانستان، بنگلادیش اور دیگر ایشیائی ممالک کے لوگ بھی آباد ہیں۔ معروف اربن پلانر عارف حسن کے ادارے اربن ریسورس سینٹر سے وابستہ شہری منصوبہ بندی کے ماہر زاہد فاروق کے مطابق پائیدار شہری منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ کراچی پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دبا کو کم کیا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کو اپنے صوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے ۔واضح رہے کہ پاکستان بننے سے آج تک مختلف ادوار میں کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن آج تک ایک بھی پلان پر عمل نہیں ہوسکا ہے ، ملک بننے کے بعد گریٹر کراچی پلان 1952 بنایا گیا، جس پر عمل نہیں ہوا، جس کے بعد کراچی ڈیولپمنٹ پلان 1974-1985 بنایا گیا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد 2007 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020 بنایا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں