بہاولپور سے کراچی آیا نوجوان پولیس تشدد سے جاں بحق،7 اہلکار معطل
شیئر کریں
15 سالہ نوجوان اور اس کے دوستوں کو پولیس نے مشکوک سمجھ کر حراست میں لیا تھا ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق
عائشہ منزل پر ناشتہ کرنے کے بعد عرفان دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنارہا تھا، ورثا کا لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج،میڈیا سے گفتگو
(رپورٹ: افتخار چوہدری)ایس آئی یو پولیس کے تشدد سے بہاولپور سے کراچی آیا 15 سالہ نوجوان عرفان جاں بحق ہوگیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق ہوگئی۔ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ کے مطابق واقعے کی انکوائری چل رہی ہے جبکہ اس واقعے میں ملوث ایک پولیس افسر سمیت 7 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ورثا نے لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا، افسران نے سات پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردیں۔تفصیلات کے مطابق عرفان کو اس کے دیگر تین دوستوں کے ہمراہ بدھ کی صبح عائشہ منزل سے حراست میں لیا گیا تھا، جمعرات کی شام کو عرفان کے چچا کو فون کرکے ایس آئی یو کے دفتر بلاکر عرفان کی موت کے بارے میں بتایا گیا۔نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ورثا نے سی آئی اے سینٹر صدر کے باہر احتجاج کیا اور پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ورثا نے الزام عائد کیا کہ عرفان ایس آئی یو پولیس کے تشدد سے ہلاک ہوا۔ورثا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عرفان کا آبائی تعلق بہاولپور سے ہے اور وہ پہلی مرتبہ کراچی گھومنے پھرنے آیا تھا، عائشہ منزل پر ناشتہ کرنے کے بعد عرفان دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنارہا تھا، پولیس نے مشکوک سمجھ کر اسے دوستوں سمیت حراست میں لیا اور ان کے موبائل فونز بند کردیے۔ورثا نے بتایا کہ عرفان کے والدین بہاولپور میں ہیں، اطلاع ملتے ہی اس کی والدہ کی طبیعت بھی خراب ہوگئی، اگر کوئی جرم بھی تھا تو اہل خانہ کو آگاہ کیا جاتا، وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، ضرورت محسوس ہوئی تو اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرینگے، لاش کا مجسٹریٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا جس کے بعد وجہ موت کا علم ہوسکے گا۔ایس ایچ او چوہدری زاہد نے بتایا کہ مذکورہ واقعہ بدھ کو پیش آیا تھا، جناح سے پولیس کو انٹری موصول ہوئی تھی کہ کوئی نامعلوم شخص لاش چھوڑ کر گیا ہے، اس اطلاع پر ڈیوٹی افسر اسپتال پہنچا تووہاں پر ایس آئی یو صدر کی پولیس بھی موقع پر موجود تھی اور مجسٹریٹ کو بھی بلوایا گیا تھا تاہم تھانے میں مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید قانونی کارروائی ایس آئی یو پولیس ہی کر رہی ہے۔


