
یہ ہوا دیرپا نہیں!!
شیئر کریں
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے طفیل موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود جسٹس یحییٰ آفریدی ملک کے 30 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھا رہے ہیں۔ 26؍ اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری ان سے حلف لیں گے اور اگلے 3 سال تک چیف جسٹس رہیں گے۔ جہاں تک نئے چیف جسٹس کی شخصیت کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ، جسٹس یحییٰ آفریدی قانونی برادری میں ایک پیشہ ور، صاف گو اور منصف مزاج جج کے طور پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جو وکلا کے ساتھ کبھی بحث نہیں کرتے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ہمیشہ وکلا کو یہ اعتماد بخشا کہ وہ جس انداز میں چاہیں اپنا کیس پیش کریں۔ 30؍ دسمبر 2016 کو ا انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف اٹھایا تو وہ سابقہ فاٹا اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے پہلے جج تھے جو اس عہدے پر فائز ہوئے، انہوں نے 28؍ جون 2018 کو سپریم کورٹ میں اپنی ترقی تک اسی عہدے پر کام کیا اور اب وہ سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی تاریخ کے پہلے چیف جسٹس بن جائیں گے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کے تقرر کے بعد حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کا راستہ روکنے کا آئینی ترمیم کی منظوری کا بنیادی مقصد پورا کر لیا ہے ،اپنی اس کامیابی پر اربابِ اختیار اور ان کے دم چھلوں کا خوشیاں منانا سمجھ میں آنے والی بات ہے ،لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس آئینی ترمیم کی منظوری یا جسٹس منصور علی شاہ کی جگہ یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس بن جانے سے عوام کو کیا ملے گا،سیاستدانوں کیلئے تو رات کو اور چھٹی کے روز بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں لیکن کیا اب سالہا سال سے رکے مقدمات جلد حل ہو جائیں گے کیا20-20 سال قید کاٹنے کے بعدبری ہونے والوں کے ان بیس سالوں کا کفارہ ادا ہو گا؟ کیا کروڑوں دے کرکوئی عہدہ حاصل کرنے اور کروڑوں لے کر عہدے بانٹنے والوں کا بھی احتساب ہوگا،پاکستان کے عدالتی نظام پر بات کی جائے تویہ کبھی کسی صورت قابل فخر نہیں رہا۔ بلاول زرداری اپنے ناناکے عدالتی قتل کا رونا ‘‘رو’’رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان کے والد محترم کے برسراقتدار رہنے کے باوجود بے نظیرکے قاتل کیوں نہیں پکڑے جا سکے جبکہ ان کی بلاشرکت غیر اپنی حکومت تھی،پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ رات کے اندھیرے میں پاس کرائی جانے والی یہ ترمیم کیا آخری آ ئینی ترمیم ہو گی جس پر شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ بظاہر حکومت چاہتی تھی کہ عدلیہ کو بھی تابع کیا جائے جس میں وہ کامیاب ہو گئی۔ حیران کن بات یہ ہے اب چیف جسٹس کا چناؤپارلیمان کے بندوں نے کیا،اس اصول کے تحت اگر پارلیمانی گروپ یا کمیٹی میں سے کوئی انگوٹھا چھاپ بھی ہوا تووہ بھی اس کمیٹی کا حصہ ہو گا ؟اس کے بعد مرضی کے فیصلے نہ کرنے پرچیف جسٹس کو بلیک میل بھی کیا جاسکے گا، ملک کا جوڈیشل نظام پہلے ہی بیساکھیوں پر کھڑا ہے،اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ اس آئینی ترمیم نے جوڈیشل نظام کو زمیں بوس کر کے رکھ دیا،اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے بیشترسینیٹر زنے آئینی ترمیم کو پڑھا بھی نہیں ہوگا، اس اعتبار سے آئینی ترمیم کو منظور کرنے والے سینیٹرز اور اراکین اسمبلی ملک کے مجرم ہیں، جمعیت علما ئے اسلام نے بھی سہولت کار کا کردار ادا کیا، سسٹم کو ٹھیک کرنے کے بجائے ایک نیا محاذ کھڑا کردیا گیا جو بظاہرصرف اپنے مفادات کیلئے کیا گیا۔اس ملک کے حالات اور سیاسی اور عدالتی نظام ایسا ہے کہ اس کے رہتے ہوئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ فیصلے میرٹ پر ہوں گے۔ آئینی عدالت میں آئین اور قانون کے خلاف فیصلے نہیں ہوں گے، اس صورت حال میں یہ تصور کرنا غلط نہیں ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتوں کی آزادی ختم ہو گئی ہے، اب کھلا انصاف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا، ترمیم سے آئین کا حلیہ بگاڑکرعدلیہ کو کمزور کیا گیا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم، آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف، آزاد عدلیہ اور اختیارات کے برعکس ہے، اس بل کے پاس کرنے کا طریقہ بھی غیر آئینی تھا۔ اس طرح آئین پر بدنما دھبہ لگایا گیا ہے، رات کے اندھیرے میں آئین اور آزاد عدلیہ کا قتل کیا گیا،اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس بل کی منظوری سے عدلیہ اس کے قابو میں آ جائے گی،یا اس ترمیم کے ذریعے منصور علی شاہ کا راستہ روک کر بنائے گئے چیف جسٹس ان کے اشاروں پر چلیں گے تو یہ حکمرانوں کی غلط فہمی ہے ۔آئینی ترمیم تو2-4 عدالتی فیصلوں کی مار ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کی دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے منظوری سے حکومت کے باقی ماندہ دن مزید کم ہو جائیں گے اور خطرات بدستور منڈلاتے رہیں گے، حکومت یہ تمام اقدامات عدلیہ کو آزادی دینے کے نام پر کر رہی ہے جب کہ بنیادی طور پر حکومت نے عدلیہ کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے اور اس ترمیم کے ذریعے اپنے ادارے کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ سب دیکھیں گے یہ دو چار عدالتی فیصلوں کی مار ہے، اب ذرا مقدمات لگنے دیں ان کوپتہ لگ جائے گا تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت کے اس قدم سے حکومت کا غیر جمہوری چہرہ مزید عیاں ہو گیا ہے، آئینی ترمیم سے ملک میں استحکام نہیں آئے گا بلکہ اس سے حکومت اسٹیبلشمنٹ کی باندی بن جائے گی۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی دن آئینی ترمیم کو مسترد کر دیتیں تو آئین محفوظ رہتا، سیاست، ریاست اور عدلیہ کے درمیان جاری کشمکش 26 ویں آئینی ترمیم سے ختم نہیں ہوئی بلکہ اس سے عدم استحکام اور عدم اعتماد کے نئے پہلو بیدار ہوں گے اور نہ ہی یہ آخری ترمیم ہو گی۔ کل اگرپی ٹی آئی کی حکومت آگئی تو وہ اسے اکھاڑ دے گی، حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے عوام کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ عوام کا سوچا بلکہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ ذاتی وسیاسی مفادات کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ کا استعمال انتہائی شرمناک ہے۔ انتخابات میں عوام کے مسائل کے حل کیلئے اپنے آپ کوپیش کرنے والے ممبران اسمبلی کااقتدار میں جاکرذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے دن رات ایک کرنا نہ صرف قوم سے وعدہ خلافی ہے بلکہ اپنے حلف سے روگردانی بھی ہے۔ صاحبان اختیار واقتدار عدالتوں میں ججز تعیناتی سے لیکر یونین کونسل کے چوکیدار کی تعیناتی تک کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ کر اداروں کے وقارکوتباہ وبرباد کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں،یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے عوام کا پارلیمانی سیاست سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے جوکہ آنے والے وقت میں انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے ۔ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے24-24 گھنٹے بھوکے پیاسے پارلیمنٹ میں بیٹھنے رہنا اور عوام کی مشکلات ومسائل پرایک لفظ بھی نہ بولنا حقیقی عوامی مسائل سے ان کی چشم پوشی کابدترین مظاہرہ ہے۔ عوام نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل اوراس سے پہلے بھی ترامیم میں عوامی مسائل سے چشم پوشی کا جو مظاہرہ دیکھاہے یہ عوام کو پارلیمانی نظام سے متنفر کرنے کاسبب بنے گا ۔کاش 25کروڑعوام کو نظرانداز کرنے والوں کواس کااندازہ ہوسکے کہ جب حالات بدلیں گے توسب خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ تب تک حالات کوسنبھالنے میں بہت دیر ہوچکی ہوگی، ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ قوم اور ملک کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ریاست کے ستون ہیں، مجوزہ ترامیم کے بعد ان کے مابین ربط و ضبط میں کتنی بہتری آئے گی؟ اس سے یہ ادارے اجتماعی اور انفرادی طور پر کتنے مضبوط ہوں گے؟ اس ترمیم کے طویل مدتی ثمرات کیا ہوں گے؟ عوام کے روٹی روزی کے مسائل حل کرنے میں یہ ترمیم کتنی ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے؟ یہ سب دیکھنے کیلئے وقت کا انتظارکرنا ہوگا۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بڑے فخر سے کہا ہے کہ میں،صدر مملکت آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر،ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کے معاملات میں ایک پیج پر ہیں،اور حالیہ آئینی ترامیم سیاسی استحکام کو یقینی بنائیں گی اور یہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے ۔اس بیان سے ظاہرہوتاہے کہ، جس مقصد کے لیے ترمیم کی گئی تھی ،یہ اس کے حصول کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعظم کا فرمان بجا ہے صدر وزیر اعظم اور آرمی چیف کا ایک پیج پر ہونا اچھی بات ہے لیکن اس پیج پر کہیں ملک کے 25 کروڑ عوام نظر نہیں آرہے، جولوگ عوام کی نمائندگی کے دعویدار ہیں ان میں تو بہت سے فارم 47 کی وجہ سے نمائندہ قرار پائے ہیں اور بہت سے نمائندہ ہونے کے باوجود پیج پر نہیں ہیں، پہلے ارکان پارلیمنٹ کسی درجے میں عوام کے نمائندے ہوتے تھے اس طرح عوام بھی پیج کے حاشیے میں تو نظر آتے تھے لیکن اب حاشیے میں بھی نظر نہیں ارہے۔ کیونکہ اب سیاسی رہنما اور حکمران کھل کر اعتراف کرتے ہیں کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ ہیں، تو ان ترامیم سے عوام کو کیا ملا،کیا ان میں سے کوئی آئینی ترمیم عوام کو براہ راست فائدہ پہنچارہی ہے ،ان ترامیم کے نتائج یا فوائد حاصل کرنے والے کچھ ہی لوگ ہوں گے۔یہ جھگڑا ہی چند لوگوں یا اداروں کا ہے اور وہی فائدہ یا نقصان اٹھائیں گے عوام کو کیا ملے گا، اچھا ہوتا کہ ایسا کوئی پیج بناتے جس میں سب موجود ہوں اورمساوی حیثیت میں ہوں۔شاید ایسا کوئی پیج کبھی نہیں رہا جس میں عوام بھی بھرپور طور پر موجود ہوں ان کا نام ضرور ہوتا ہے، جس قسم کی گفتگو خواجہ آصف نے اسمبلی میں کی ہے اس سے واضح ہورہا ہے کہ جھگڑا اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ میں تھا۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ 8 آدمی 24 کروڑ عوام کی خواہشوں کے مرکز ایوان کے خلاف گینگ اپ ہوگئے تھے،انہوں نے اچھا سوال اٹھایا ہے کہ کیا میثاق جمہوریت یہ سبق دیتا ہے کہ 8 آدمی پورا جمہوری سیٹ اپ یرغمال بنالیں،اور ہم تابع ہوجائیں، کیا یہی ایک ادارہ رہ گیا ہے جس میں17-18فراد بیٹھے ہیں، اس سے قبل وہ جب راندہ ٔدرگاہ تھے تو آرمی چیف اور فوج کے بارے میں بھی یہی سوال اٹھا چکے تھے کہ کیا ایک ادارہ پورے جمہوری سیٹ اپ کو یرغمال بناسکتا ہے،یہ سوال اب اسٹیبلشمنٹ سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا اسے پورا جمہوری نظام یرغمال بنانے کا اختیار ہے۔ خواجہ صاحب نے عدالت عظمی کے ڈیم بنانے کے اختیار یا ذمہ داری پر بھی سوال درست اٹھایا ہے کہ کیا ڈیم بنانا ان کا کام تھا، یہی سوال وہ تمام اداروں سے پوچھیں ملک چلانا، معاشی معاملات چلانا خارجہ پالیسی چلانا یہ سارے کام تو پارلیمنٹ اور سیاسی حکومت کے ہیں، حکومت پھر فوج کو ان معاملات میں کیوں گھسیٹتی ہے؟ چند ججوں کی جانب سے کسی ادارے کے اقدام پر فیصلہ دینا یرغمال بنانا کیسے ہوسکتا ہے ؟