اسرائیلی یہودی فوج کے ہاتھوں500 مسلمان فلسطینی شہید
شیئر کریں
عالمی طاقتوں کی بے حسی ، 12دنوں میں نہتے ، بھوکے ، مرد ، خواتین اور بچوں کا قتل
ہزاروں افراد شدید زخمی ، اسرائیلی توپ خانوں سے گولہ باری ،امدادی ٹیمیں متاثر
گزشتہ12دنوں میں اسرائیلی یہودیوں کے ہاتھوں تقریباً 500 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید کردیا گیا ، جس میں مردوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ ہزاروں افراد شدید زخمی کیے گئے ،جنہیں طبی امداد کی سہولیات میسر نہیں ہیں ، جس کی بناء بیشتر زخمی اذیت میں رہتے ہوئے شہید ہوئے ۔گزشتہ24گھنٹوں میں51 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور104زخمی ہوئے ،طبی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح سے اب تک36 افراد شہید ہوئے، جن میں7 وہ افراد تھے جو امداد کے انتظار میں کھڑے تھے۔ناصر اسپتال کے ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے رفح شہر میں امدادی مرکز کے قریب6افراد شہید ہوئے۔خان یونس کے علاقے المواسی میں ایک خیمے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں2 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔کپتان محمد ناصر غراب، جو2005ء سے غزہ سول ڈیفنس میں خدمات انجام دے رہے تھے، اسرائیلی حملے میں نصیرات مہاجر کیمپ میں اپنے گھر پر نشانہ بننے کے بعد شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد سول ڈیفنس کے شہدا کی تعداد121ہو گئی ہے، جو کہ اس ادارے کے کل عملے کا تقریبا 14.3 فیصد بنتی ہے۔سول ڈیفنس نے بیان میں کہا کہ ان کا عملہ صرف انسانی ہمدردی اور ہنگامی امدادی کاموں کے لیے تعینات ہوتا ہے، اور انہیں صرف ضرورت پڑنے پر طلب کیا جاتا ہے۔غزہ شہر اور شمالی و جنوبی خان یونس میں اسرائیلی توپ خانے کی شدید گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔


