سندھ بلڈنگ، اللہ والا ٹاؤن میں غیرقانونی تعمیرات پر عوام پریشان
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف سرکاری قواعد نظرانداز کرنے کے الزامات
سیکٹر 31Gپلاٹ نمبر 1312+1257دو مشترکہ رہائشی پلاٹوں کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر
کورنگی انڈسٹریل ایریا کے قریب اللہ والا ٹاؤن میں واقع پلاٹ نمبر 1312+ 1257 دو مشترکہ پلاٹوں پر غیرقانونی دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیرات کا معاملہ گرم ہے ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور ان کے ماتحت انسپکٹر کاشف علی نے مبینہ طور پر سرکاری ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے نہ صرف ان خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکامی دکھائی بلکہ انھیں فروغ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹر جلبانی کا کردار محض دستاویزات تک محدود ہے ، جہاں وہ کاغذی کارروائی میں تو مصروف نظر آتے ہیں مگر زمینی حقائق ان کے دعوؤں کے یکسر مخالف ہیں۔ دوسری جانب انسپکٹر کاشف علی نے اپنے زیرِ انتظام علاقے میں متعدد تعمیراتی منصوبوں کا معائنہ کیا، جن میں سے بیشتر میں بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی پائی گئی، لیکن ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ایک مقامی رہائشی کا کہنا ہے ، "یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے ۔ انسپکٹر کاشف علی نے سائٹ پر آ کر تعمیرات کو جاری رکھنے کی اجازت دی، اور ڈائریکٹر سمیع جلبانی دفتر میں بیٹھ کر ان تمام خلاف ورزیوں کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔”اللہ والا ٹاؤن میں مشترکہ پلاٹوں پر غیرقانونی دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیرات کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ، جس سے علاقے میں نکاسی آب کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی ڈاکٹر پرویز اختر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ان غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے نہ صرف گلی محلوں کی سڑکیں تنگ ہو گئی ہیں بلکہ آگ لگنے یا کسی قدرتی آفت جیسے زلزلے کی صورت میں یہ عمارتیں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہم نے متعدد بار انتظامیہ کو آگاہ کیا مگر ان افسران نے ذاتی مفادات کی خاطر عوام کی جانوں کو داؤ پر لگانے میں مصروف عمل ہیں ۔مکینوں کا مطالبہ ہے کہ مبینہ طور پر ملوث افسران اور تعمیراتی مافیا کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ان کی جان و مال کے تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


