لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال
شیئر کریں
چوپال /عظمیٰ نقوی
عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہماری تہذیب و ثقافت کا وہ حسین امتزاج ہیں جن میں خوشیوں، محبتوں اور تعلقات کی مٹھاس گھلی ہوتی ہے، مگر بدلتے وقت کے ساتھ جہاں بہت سی روایات دم توڑ رہی ہیں وہیں ایک خوبصورت روایت جس کا تعلق دلوں کو جوڑنے سے تھا، وہ عید کارڈ بھی اب آہستہ آہستہ ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے اور لیٹر بکس جو کبھی عید کارڈز سے بھرے ہوتے تھے، اب خاموشی کا منظر پیش کرتے ہیں۔
کبھی زمانہ تھا کہ عید سے کئی دن پہلے ہی ڈاکیے کی آمد کا انتظار کیا جاتا تھا اور لیٹر بکس کھلتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی کہ شاید کسی اپنے کا محبت بھرا عید کارڈ آیا ہو، جس پر نہ صرف خوبصورت الفاظ لکھے ہوتے بلکہ خوشبو، محبت اور خلوص کی ایک انمول جھلک بھی ہوتی تھی، لوگ اپنے پیاروں کے لیے دل سے منتخب کیے گئے عید کارڈ خریدتے، ان پر اپنے ہاتھ سے پیغام لکھتے اور ڈاک کے ذریعے دور دراز تک اپنے جذبات پہنچاتے تھے، یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں محبت، اپنائیت اور احساس کی پوری کہانی سمائی ہوتی تھی، مگر آج کل کے جدید دور میں جہاں موبائل فون، سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور ای میل نے زندگی کو تیز رفتار بنا دیا ہے وہیں ان سہولتوں نے روایتی طریقۂ اظہار کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے، اب لوگ ایک کلک سے میسج بھیج دیتے ہیں، نہ لفافہ چاہیے نہ ڈاک ٹکٹ، نہ انتظار کی کوئی کیفیت باقی رہتی ہے اور نہ وہ خوشی جو لیٹر بکس سے خط یا کارڈ نکلنے پر محسوس ہوتی تھی، عید کارڈ کی جگہ اب "ایموجیز” اور مختصر پیغامات نے لے لی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ڈیجیٹل پیغامات میں وہ گرمی، وہ خلوص اور وہ اپنائیت باقی ہے جو ایک ہاتھ سے لکھے گئے عید کارڈ میں ہوتی تھی؟ یقینا نہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی نے سہولت تو دی ہے مگر جذبات کی گہرائی کو کہیں نہ کہیں کمزور کر دیا ہے، لیٹر بکس کا وہ دور جب ڈاکیا عید کارڈز سے بھرا بیگ اٹھائے محلے میں داخل ہوتا تھا اور بچے خوشی سے دوڑتے ہوئے اپنے کارڈ وصول کرتے تھے، آج محض ایک یاد بن چکا ہے، اب نہ وہ انتظار ہے، نہ وہ جوش، نہ وہ حیرت اور نہ وہ خوشی جو ایک وقت میں عید کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی، افسوس کہ نئی نسل نے عید کارڈ کی روایت کو نہ صرف اپنایا نہیں بلکہ شاید اس کا نام بھی بھول رہی ہے، اگر کبھی کسی گھر میں کوئی کارڈ آ بھی جائے تو اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جیسے کوئی نایاب چیز ہاتھ لگ گئی ہو، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم صرف سہولتوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی خوبصورت روایات کو کھو رہے ہیں؟
عید کارڈ صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے ہم اپنے رشتوں کو مضبوط کرتے تھے، بزرگوں کے لیے عزت اور چھوٹوں کے لیے محبت کا اظہار ہوتا تھا، یہ وہ ذریعہ تھا جو دلوں کو قریب لاتا تھا اور فاصلے کم کرتا تھا، اگرچہ ٹیکنالوجی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمیں اپنی روایات کو بھی زندہ رکھنا ہوگا، کیونکہ ثقافتیں روایات سے ہی زندہ رہتی ہیں، اگر ہم نے عید کارڈ جیسی روایات کو مکمل طور پر چھوڑ دیا تو آنے والی نسلیں اس خوبصورت احساس سے محروم رہ جائیں گی جو کبھی ہمارے لیے عید کا اصل حسن تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ ان روایات کو زندہ کرنے کی کوشش کریں، کم از کم سال میں ایک بار اپنے پیاروں کو عید کارڈ بھیج کر اس خوبصورت روایت کو زندہ رکھا جائے، کیونکہ ایک سادہ سا کارڈ بھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے اور دلوں کو جوڑ سکتا ہے، لیٹر بکس کی خاموشی ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم نے شاید کہیں نہ کہیں اپنی اقدار کو چھوڑ دیا ہے، لیکن اگر ہم چاہیں تو یہ روایت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے، بس ضرورت ہے ایک چھوٹے سے قدم کی، ایک چھوٹے سے کارڈ کی اور ایک بڑے جذبے کی، عید کارڈ کی روایت ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف ہم نے اسے نظر انداز کیا ہے، اور اگر ہم نے چاہا تو اسے پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ خوشی بانٹنے کا بہترین ذریعہ آج بھی وہی کاغذ کا کارڈ ہے جس میں دل کی بات لکھی ہوتی ہے اور جو خاموشی سے لیٹر بکس میں انتظار کرتا ہے کہ کوئی اسے پھر سے زندہ کر دے۔
٭٭٭


