میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اپوزیشن کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی مخالفت، معاہدے کی شرائط سامنے لانے کا مطالبہ

اپوزیشن کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی مخالفت، معاہدے کی شرائط سامنے لانے کا مطالبہ

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۳ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

بورڈ آف پیس میں شمولیت کیلئے پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے، شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کوکیسے قبول کر لیا،کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے ہماری فورسز جائیں گی ،بیرسٹر گوہر

اپوزیشن جماعتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے امن بورڈ معائدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیٔرمین بیرسڑ گوہر نے کہا کہ فلسطین اور غزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، فلسطین پر ہمارا مؤقف رہا ہے کہ ہر وہ حل ہمیں قبول ہوگا جو مسلم دنیا کو قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے، غزہ میں لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں، اب بورڈ آف پیس کا ایشو سامنے آیا ہے۔چیٔرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا، گزشتہ روز ایک پریس ریلیز آئی جس میں اس پیس آف بورڈ کو قبول کرنے کا بتایا گیا، ابھی تک پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں بتائیں کہ بورڈ آف پیس کو کن شرائط پر قبول کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے یہ ادارہ علیحدہ سے تشکیل پا رہا ہے اقوام متحدہ کے تحت ہوتا تو حکومت خود فیصلہ کر سکتی تھی اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کا معاملہ تمام پاکستانیوں کا معاملہ ہے، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں زیر بحث ہے کچھ معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ کی تعمیر نو کرے گا، ایوان میں یہ بات آئے گی اور یک جہتی کا پیغام جانا چاہیے۔حکومتی رکن نے کہا کہ ہمیں نے امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے اوپر ہمیشہ آواز بلند کی، غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کی وجہ سے پاکستان نے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں