عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم
شیئر کریں
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے
، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلے ہر حد پر لڑیں گے۔ انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ہم ان کے پیغام رساں ہیں، علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ دینے کا پیغام عمران خان نے ہمارے ہاتھ نہیں بھیجا تھا بلکہ جیل میں میڈیا کو کہا تھا، جو وہ عمران خان کو نہیں کہہ سکتے وہ ان کی فیملی کو کہہ دیتے ہیں چونکہ وہ ان ہی کے بدولت بیٹھے ہوئے ہیں تو انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، جب یہ ہمیں کہتے ہیں تو اصل میں انہیں غصہ عمران خان پر ہے، بولنے والوں کو اگر ان کی صحت کی فکر ہوتی تو ان کی شکلوں پر نظر آ جاتی، اگر یہ محسن نقوی کی زبان بولیں گے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا اگر یہ نہیں لڑنا چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں، میرے بھائی کی آنکھ سیاست نہیں ہے، ہمارے خاندان کی ترجیح ان کی صحت ہے۔ایک سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ ہمیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کوئی جیل میں جا رہا ہے ہمیں یہی تو جھٹکا ملا ہے، ہم سے آج تک کسی نے بات نہیں کی، صرف ایک کا مجھے معلوم ہے جب چار اگست کو کہا تھا کہ آپ کو سیف ایگزٹ دیتے ہیں آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، جس پر عمران خان نے کہا مجھ پر بنائے گئے سارے کیسز جھوٹے ہیں اور میں ان کا سامنا کروں گا، عمران خان سے میری آخری ملاقات گذشتہ برس 16 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان خود کہتے تھے کہ اس کے بعد تین مہینے تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی، اگست میں ایک ملاقات کے دوران ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھ تھوڑی سی لال تھی، ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا، اس کے باوجود ہم نے عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے، اگلی ملاقات میں عمران خان سے ان کی آنکھ سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا اب ٹھیک ہے، آنکھوں میں ڈراپس ڈالے تھے اور میرا نظر کا نمبر تبدیل ہوا ہے۔علیمہ خان نے بتایا کہ تین یا چار دسمبر کو میری بہن کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات ہوئی جہاں ان کی بیٹی بھی موجود تھیں، اس وقت عمران خان نے نہیں کہا کہ میری آنکھ میں کوئی تکلیف ہے بعد ازاں پمز کی ٹیم نے جب ان کا معائنہ کیا تو انہیں بتایا کہ اگر ہم نہ آتے تو آپ کی آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو جاتی، ہمیں ڈاکٹروں نے بتایا اگر ایک آنکھ میں یہ مسئلہ ہے تو دوسری میں بھی ہو جائے گا، یہ تمام باتیں ڈاکٹروں نے عمران خان کو بتائیں جو انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے وکیل سلمان صفدر کو بتائیں۔سابق وزیراعظم کی بہن نے یہ بھی بتایا کہ بیٹوں سے گفتگو کے دوران عمران خان پریشان تھے کہ انہیں ایک آنکھ سے نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں بھی ایسا ہو سکتا ہے، بیٹوں سے 20 منٹ کے لیے بات ہوئی جو ٹوٹ ٹوٹ کر ہوتی رہی، فون ڈراپ ہوتا اور پھر ری کنکٹ ہوتا تھا، وہ پریشان تھے کہ مجھے ایک آنکھ میں نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں ایسا ہو سکتا ہے، پھر ہم پریشان نہ ہوں؟


