ریاستی غفلت کا تسلسل!
شیئر کریں
کراچی کی فضا ایک بار پھر دھوئیں، راکھ اور سسکیوں سے بوجھل ہے۔گل پلازہ میں بھڑکنے والی آگ نے ایک بھرپور تجارتی مرکز کو کھنڈر میں بدل دیا، یہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا کرب ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک مکمل المیہ، ایک اجتماعی ناکامی اور ایک ایسے نظام کی عکاس ہے جو برسوں سے صرف فائلوں، بیانات اور رسمی کارروائیوں میں زندہ ہے ، مگر عملی طور پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔گل پلازہ کے شعلوں نے ہمیں ایک بار پھر آئینہ دکھایا ہے۔یہ آئینہ ہمارے نظام کی کمزوریوں، ہماری ترجیحات کی غلطیوں اور ہماری اجتماعی بے حسی کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس آئینے میں جھانک کر خود کو درست نہ کیا تو یہ شعلے کسی اور بازار، کسی اور پلازہ اور کسی اور خاندان کی زندگی کو راکھ بنا دیں گے،اس سانحہ پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم صرف ماتم کرنے کے لیے زندہ ہیں یا سیکھنے اور بدلنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں؟ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے، کیونکہ ہر تاخیر ایک نئی آگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
کراچی جو روشنیوں کا شہر ہوا کرتا ہے جو پورے ملک کے لوگوں کو روزگار دیتا ہے جس کا شمار بھوکوں کو کھانا کھلانے اورغریبوں کی مدد کرنے میں سرفہرست ہے ،آج جان لیوا سانحات سے دوچار ہے، کبھی اس کی بولٹن مارکیٹ جل جاتی ہے تو کبھی آرجے پلازا،کبھی ملینیم مال تو کبھی عرشی مال جل جاتا ہے کبھی یہاں کی فیکٹریاں مزدوروں سمیت جلا دی جاتی ہیں اور کبھی مجرموں کے ریکارڈ جلا دئے جاتے ہیں اوراب گل پلازاآگ کا ڈھیر ہے۔گل پلازہ کی آگ کوئی اچانک حادثہ نہیں ہے بلکہ کراچی کے وجود میں دہکتی ہوئی ایک پرانی آگ کا شعلہ تھا۔ یہ آگ گزشتہ ربع صدی سے زیادہ عرصے کی سیاسی حکمرانی، بلدیاتی مفلوجیت، ریاستی نااہلی اور اجتماعی بے حسی کا دہکتا ہوا اعتراف تھی۔ یہ آگ صرف ایک عمارت تک محدود نہیں تھی۔ یہ آگ پورے شہر کے بنیادی ڈھانچے، انتظامیہ کے دعووں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر لگی تھی۔دنیا کے کسی بھی مہذب شہر میں آگ لگنا ایک قومی ایمرجنسی ہوتی ہے، جس پر پورا انتظامی ڈھانچہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ مگر کراچی میں آگ لگنا ایک معمول بن چکا ہے۔ بازار جلتے ہیں، فیکٹریاں جلتی ہیں، مکان جلتے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ جلنا جلانا واقعی حادثاتی اور اتفاقی ہے؟یا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کیا جارہا ہے؟اس شہر کراچی کو تباہی کے دوراہے پر کھڑا کرنے میں اس شہر کی وراثت کا دعویٰ کرنے والی جماعت اورہماری حکومت کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،شہر کے تمام اہم اختیارات گھوم پھر کر اس شہر کے لوگوں کی نام نہاد نمائندہ جماعت اور صوبائی حکومت کے پاس رہے ہیں۔اب بھی تمام وسائل صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کی گود میں ہیں۔ اور ذمے داری؟ وہ کسی کی نہیں ہے،گل پلازہ کا یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ حادثہ تو وہ ہوتا ہے جس کی پیشگی روک تھام ممکن نہ ہو۔ گل پلازہ میں جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر قابل ِ روک تھا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق پلازا میں فائر سیفٹی کا کوئی معقول نظام موجود نہیں تھا۔ ایمرجنسی ایگزٹ پر یا تو تالے لگے تھے یا انہیں قبضہ مافیا نے اپنا گودام بنا رکھا تھا۔ فائر الارم بے صدا تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ممکن ہوا؟ اس کا واحد جواب ہے، کراچی میں قانون نہیں، صرف رشوت کی حکمرانی ہے۔ یہاں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے افسران اور اہلکار تعمیر سے پہلے نہیں، حادثے کے بعد جاگتے ہیں۔اب اس ادارے کے ذمہ داروں سے کوئی یہ سوال کرنے کو تیار نہیں ہے کہ اس عمارت کو مکمل ہونے کے بعداین او سی کس نے دیا؟ کس انسپکٹر نے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ پر مہر ثبت کی؟اور اس کی انسپکشن کتنے عرصے کے وقفے سے کی جاتی تھی اور اگر انسپکشن نہیں کی گئی تو ایسا کیوں کیاگیا؟۔ یہ سوالات نہیں، بلکہ فردِ جرم ہیں، جو ہر اس افسر اور اہلکار کے خلاف ہے جو اس قتل میں شریک ِ جرم ہے۔اگر آج بھی ذمے داروں کا تعین نہیں کیاگیا، بلڈنگ کنٹرول کے تمام بدعنوان افسران کو برطرف اور سزا نہیں دی گئی، فائر بریگیڈ کو جدید ترین سازوسامان، مستقل بجٹ اور تربیت دینے کا انتظام نہ کیاگیا،اور یہ سب کرنے کیلئے میئر اور شہری حکومت کو حقیقی اختیارات نہیں دیے گئے، اور فائر سیفٹی قوانین کو سختی سے نافذ نہیں کیا گیا، تو کل یہی آگ کسی اور نام، کسی اور عمارت سے نکلے گی۔ عمارت کا نام بدل جائے گا، لیکن لاشیں وہی رہیں گی،راکھ وہی ہوگی۔ اور آنسو وہی ہوں گے۔
کراچی ملک کے مجموعی ریونیو کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ ناکافی پانی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور جلتی ہوئی عمارتوں سے گرتی ہوئی لاشیں۔ یہ ناانصافی نہیں، یہ کھلا ہوا استحصال ہے۔کیا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات،میئر کراچی، گورنر سندھ اور دیگر ارباب اختیار یہ نہیں جانتے کہ ہمارے شہر کراچی میں تعمیر کی جانے والی بلند وبالا عمارتیں جدید شہری تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ وقتی مفادات، لالچ اور بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہیں۔ ان عمارتوں میں نہ تو حفاظتی اصولوں کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی مستقبل کے خطرات کو مدنظر رکھا گیا، جس کا خمیازہ اس شہر کے لوگ اپنی جان کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔کراچی جیسے شہر میں، جہاں آبادی کا دباؤ، ٹریفک کا بے ہنگم نظام اور انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ کوئی غیر
متوقع بات نہیں ہے۔ ارباب اختیار تو کیا عام شہری بھی یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ شہر کے قدیم اور گنجان آباد علاقوں میں موجود تجارتی مراکز ، بازار، گودام اورکثیر المنزلہ عمارتیں کسی بھی وقت ایک بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔ان میں سے بیشتر عمارتوں کا کبھی باقاعدہ سیفٹی آڈٹ نہیں ہوا، نہ یہ معلوم ہے کہ ان میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات موجود ہیں یا نہیں۔ تنگ گلیاں، تجاوزات، غیر قانونی پارکنگ اور ناقص سڑکیں ہنگامی حالات میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی وقت ضایع ہوتا ہے اور نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ شہر کے پرانے علاقوں میں قائم گودام، پیداواری یونٹس، ریلوے لائنوں اور ہائی ٹینشن لائنوں کے ساتھ موجود بستیاں، سڑکوں اور ہائی ویز کے کنارے بنی جھونپڑیاں ، خطرناک کیمیکلز سے بھرے گودام، پیٹرولیم تنصیبات، آئل ڈپو، بجلی گھر اور کچرا کنڈیاں ایسے مقامات ہیں جہاں لوگ ایک انتہائی غیر محفوظ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان مقامات پر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں نقصان کا دائرہ بہت وسیع ہوسکتا ہے۔ ان سب کے پیچھے اصل وجہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ کمرشل عمارتوں میں بجلی اور پلمبنگ کے نقائص کو شاذ و نادر ہی درست کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ خرابیاں بگڑتی چلی جاتی ہیں، مگر مالکان کو صرف منافع اور انتظامیہ کے اہلکاروں کو صرف رشوت کی بھاری رقم سے غرض ہوتی ہے۔ لیکیج، برقی تاروں میں اسپارک اور
خستہ حال نالیوں کے باوجودبلڈنگ کنٹرول کے راشی اور نااہل افسران بھاری رشوت کے عوض سب اچھا سب درست کا سرٹیفکٹ جاری کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ شہر میں متعدد ایسی فلک بوس عمارتیں موجود ہیں جن کیلئے ضرورت کے مطابق بجلی کے کنکشن تک نہیں لیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح عمارتوں کی اندرونی بناوٹ بھی محفوظ انخلا کو یقینی نہیں بناتی۔ اخراج کے لیے محدود راستے، بند دروازے اور تنگ سیڑھیاں نہ صرف بھگدڑ کا سبب بنتی ہیں بلکہ لوگوں کے پھنس جانے کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔ مناسب ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے آگ سے بچ نکلنے والے افراد بھی دم گھٹنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سب مسائل ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ برسوں کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔ یہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور طبقات کس طرح قانون کو پامال کرتے ہیں اور انسانی جانوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں۔ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے یا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور سمجھتے ہیں یا انھیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اثر و رسوخ کے ذریعے بچ نکلیں گے، اور بدقسمتی سے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔کیا یہ میئر کراچی اور انتظامیہ کی فرائض سے غفلت یا چشم پوشی نہیں ہے کہ شہر میں آتشزدگی کیپے درپے واقعات کے باوجود کراچی فائر بریگیڈ شدید افرادی قوت اور تکنیکیسہولتوں کی کمیابی کا شکار ہے۔ منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں سیکڑوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، فائر فائٹرز کی مسلسل تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کے باعث موجودہ عملہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ فائر فائٹرز محدود وسائل کے ساتھ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد، تربیت اور آلات شہر کے حجم اور آبادی کے تناسب سے انتہائی ناکافی ہیں۔ 2025 کے دوران کراچی میں آتشزدگی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسانی کہانی، ایک ٹوٹا ہوا خاندان اور ایک اجڑا ہوا مستقبل چھپا ہوا ہے۔کراچی میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹس، فائر بریگیڈ اور بلدیاتی ادارے موجود ہیں، جن کے پاس ہزاروں افسران اور ملازمین تعینات ہیں۔ یہ سب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں، مگر جب عملی امتحان کا وقت آتا ہے تو ان کی کارکردگی مایوس کن حد تک ناکام نظر آتی ہے۔فائلوں میں منصوبے، اجلاسوں میں تقاریر اور کاغذوں میں پالیسیاں تو بہت ہیں، مگر زمین پر ان کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر یہ ادارے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہیں تو ان کے وجود کا مقصد کیا ہے۔موجودہ عمارتوں کی جامع جانچ پڑتال کے ذریعے ناقص تعمیرات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے تاکہ بروقت مرمت اور اصلاح ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر انھیں ہنگامی بنیادوں پر متحرک کرنا ہوگا۔ اس عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت ناگزیر ہے۔ تجارتی و کاروباری انجمنیں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں، بلڈنگ کنٹرول کے ادارے، مزدور یونینز، جامعات اور میڈیا اگر مل کر کام کریں تو ایک مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔حفاظتی اقدامات اختیار کرنا کسی سانحے کے بعد اظہارِ افسوس کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مارکیٹوں کی انتظامی کمیٹیوں، دکانداروں کی انجمنوں اور مقامی تنظیموں کو آگ لگنے اور دیگر حادثات سے بچاؤ کے اقدامات میں عملی مدد فراہم کرے ۔ مشترکہ سروے، آتش گیر مادوں کی خرید و فروخت اور ذخیرہ کرنے کی جگہوں کی نشاندہی، اور رضاکاروں کو بنیادی ریسکیو تربیت دینا ایسے اقدامات ہیں جن سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں،ارباب اختیار کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئیکہ گل پلازہ کا سانحہ ایک وارننگ ہے،
جمہوری بصیرت، عملی قوت اور اجتماعی ذمے داری ہی ہمیں ان بار بار دہرانے والے المیوں سے بچا سکتی ہے، ورنہ ہم ہر بار چند دن سوگ منا کر اگلے حادثے کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے، اور انسانی جان یوں ہی سستی ہوتی چلی جائے گی۔
٭٭٭


