امن کا عالمی دن انسانیت کی بقا اور پائیدار ترقی کا راستہ
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
دنیا میں نفرتوں اور جنگوں کے پر آشوب دور اور اندھیروں میں سب سے قیمتی چیز جو انسانیت کو سکون، تحفظ اور خوشحالی دے سکتی ہے وہ امن ہے ۔ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کے سکون، معاشرتی ہم آہنگی، معاشی استحکام اور انسانی وقار کے احترام کا دوسرا نام ہے ۔ جب انسانوں کے درمیان محبت، برداشت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو تو یہی اصل امن کہلاتی ہے ۔ امن کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور خوشحالی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں رہنے والا شخص خواہ کسی بھی رنگ، نسل، مذہب یا زبان سے تعلق رکھتا ہو، امن کی خواہش کرتا ہے کیونکہ امن ہی وہ واحد صورت ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے ۔امن کی تعریف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف ایک لفظ یا حالت نہ سمجھیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات تسلیم کریں۔ امن کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں افراد کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوں، اختلافات کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کیا جائے ، تشدد، نفرت اور تعصب کو ختم کیا جائے اور انصاف و برابری کو فروغ دیا جائے ۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص اپنی جان و مال، عزت و آبرو کے حوالے سے مطمئن ہو، جہاں کوئی بھی انسان خوف، جبر اور استحصال کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو، یہی حقیقی امن ہے ۔ امن کا مطلب صرف ریاستوں کے درمیان جنگ بندی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر شخص کو اپنے حقوق ملیں، معاشی اور سماجی انصاف قائم ہو، تعلیم اور صحت کی سہولیات سب کو میسر ہوں اور انسانیت کو بلا امتیاز قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔
امن کے عالمی دن کا پس منظر بھی اسی سوچ کا عکاس ہے ۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981میں منانے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا بھر میں جنگوں کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے شعور اجاگر کیا جا سکے ۔ بعدازاں 2001میں اس دن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے یہ قرار دیا گیا کہ اسے ہر سال 21ستمبر کو منایا جائے گا اور یہ دن دنیا بھر میں تشدد سے اجتناب اور صلح و آشتی کی کوششوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس دن کا مقصد حکومتوں، اداروں اور عام انسانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ امن صرف ریاستی پالیسیوں سے نہیں بلکہ ہر شخص کے رویے اور کردار سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر انفرادی سطح پر برداشت اور رواداری کو اپنایا جائے تو اجتماعی طور پر دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔دنیا کے ہر خطے میں یہ دن نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔ ہر سال اقوام متحدہ اس دن کے لیے ایک مخصوص تھیم تجویز کرتی ہے تاکہ امن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا سکے ۔ یہ تھیم نہ صرف عالمی رہنماؤں کے لیے ایک رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ عام انسانوں کو بھی اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے رویوں میں کس طرح مثبت تبدیلی لا کر امن کے فروغ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2025میں اس دن کی تھیم ہے : Act Now for a Peaceful World۔ اس تھیم کا مقصد یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے باتوں یا وعدوں سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ دنیا کے موجودہ مسائل مثلاً مسلح تنازعات، ماحولیاتی بحران، غربت، دہشت گردی اور معاشرتی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ تھیم اس امر پر زور دیتی ہے کہ امن صرف سرحدوں کی حفاظت یا جنگ کے نہ ہونے سے ممکن نہیں بلکہ یہ تبھی قائم ہو سکتا ہے جب دنیا بھر میں مساوات، انصاف، احترامِ انسانیت اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے ۔تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امن کو موجودہ دور میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلیاں لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر رہی ہیں، غربت اور بھوک کروڑوں افراد کے لیے زندگی کو اجیرن بنا رہی ہیں، طاقت کے حصول کی جنگیں دنیا کو ایک بار پھر تباہی کی دہلیز پر لا کھڑا کر رہی ہیں۔ ایسے میں امن قائم کرنے کے لیے صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ تھیم یہ پیغام دیتی ہے کہ دنیا کو یکجہتی، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے سے سرشار ہو کر امن کے خواب کو حقیقت بنانا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے امن کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے ، اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عالمی برادری کو نفرت انگیز بیانیوں، نسل پرستی، شدت پسندی اور غیر مساوی معاشی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ امن کے بغیر ترقی کا کوئی راستہ نہیں، امن کے بغیر انصاف ممکن نہیں اور امن کے بغیر انسانی حقوق محض کھوکھلے نعرے ہیں۔ ان کا پیغام دراصل دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک عہد ہے کہ وہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر یکجہتی، برداشت اور بھائی چارے کو اپنائیں تاکہ آئندہ نسلوں کو ایک پرامن دنیا وراثت میں مل سکے ۔امن قائم کرنے کے لیے دنیا کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر کئی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ تعلیم کو فروغ دیا جائے ، کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو شعور، برداشت، رواداری اور دوسرے کے حقوق کے احترام کا سبق دیتی ہے ۔ جب معاشرے کے افراد تعلیم یافتہ ہوں گے تو وہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے ۔ غربت اور بے روزگاری وہ عوامل ہیں جو افراد کو انتہا پسندی اور تشدد کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر معاشرے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہو تو امن کے قیام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
عالمی سطح پر ضروری ہے کہ طاقتور ممالک چھوٹے اور کمزور ممالک پر اپنے سیاسی و معاشی دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کریں۔ انصاف پر مبنی عالمی نظام کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی کہ وہ نفرت انگیز بیانیوں کو فروغ دینے کے بجائے امن، بھائی چارے اور رواداری کے پیغامات عام کرے ۔ مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو شدت پسندی کے بجائے اعتدال پسندی کا درس دیں۔ نوجوانوں کو امن کے سفیر بنایا جائے تاکہ وہ اپنی توانائی مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں اور دنیا میں محبت و بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین معاشروں میں امن کے فروغ کے لیے سب سے اہم قوت ہیں کیونکہ وہ نسلوں کی پرورش کرتی ہیں اور گھر کے ماحول کو سکون و محبت سے بھر سکتی ہیں۔ اگر خواتین کو بااختیار بنایا جائے ، ان کی تعلیم اور صحت کا خیال رکھا جائے اور ان کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو معاشرے میں امن کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح بچے مستقبل کے معمار ہیں، ان کو چھوٹی عمر سے ہی برداشت، رواداری اور امن کی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نفرت اور تشدد سے دور رہیں۔
امن کا قیام صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے ۔ دنیا میں جاری تنازعات جیسے فلسطین اور کشمیر کی صورت میں ہم دیکھتے ہیں کہ انصاف نہ ہونے کی وجہ سے بدامنی اور جنگیں مسلسل جاری ہیں۔ جب تک مظلوم قوموں کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جاتے ، تب تک دنیا حقیقی امن سے محروم رہے گی۔ اس لیے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو انصاف پر مبنی فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ ایسے تنازعات ختم ہوں اور انسانیت کو سکون مل سکے ۔بھارت اور اسرائیل خطہ میں دہشت گردی چھوڑیں اور مسئلہ کشمیر اور فلسطین میں امن قائم کرنے اور ان کے حل کے لیے مثبت اقدامات کریں. بھارت اور اسرائیل کھلی جارحیت اور بربریت کر رہے ہیں. معصوم بیگناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرے ۔ اگر ہر شخص اپنے گھر، اپنے محلے اور اپنے شہر میں نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دے ، اگر اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے تو دنیا خود بخود امن کی طرف بڑھنے لگے گی۔ یہ ایک اجتماعی سفر ہے جس میں ہر انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔امن کا عالمی دن صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ دراصل ایک مستقل یاد دہانی ہے کہ امن انسانیت کی بقا کے لیے سب سے اہم ہے ۔ جب تک دنیا کے ہر کونے میں مساوات، انصاف، برداشت اور بھائی چارے کی فضا قائم نہیں ہوتی تب تک حقیقی امن ممکن نہیں۔ اس لیے یہ دن ہم سب کو اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں امن کے فروغ کے لیے وقف کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال دنیا وراثت میں دیں گے ۔


