میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،گلستان جوہر میں غیر قانونی تعمیرات اتھارٹی کی کارروائی پر سوالات

سندھ بلڈنگ ،گلستان جوہر میں غیر قانونی تعمیرات اتھارٹی کی کارروائی پر سوالات

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۱ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

قابض مافیا گٹھ جوڑ،انسپکٹر اورنگزیب خان پر قابض مافیا کو تحفظ دینے کے گمبھیر الزامات
بلاک 11پلاٹ B516 ،B138+139 پر تعمیراتی لاقانونیت ، عوام غصے میں

ضلع شرقی کے معروف علاقے گلستان جوہر میں نقشوں کے بر خلاف جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد ڈھانچے منہدم کر دیے ہیں۔ تاہم، کارروائی کے باوجود عوام کا اصرار ہے کہ اس مسئلے کی اصل جڑ اتھارٹی کے اندر موجود ایک تعمیراتی مافیا اور چند بدعنوان افسران کا گٹھ جوڑ ہے ،جس میں مقامی بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان کے نام پر شدید قسم کے الزامات سامنے آئے ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کراچی سمیت پورے صوبے میں عمارتی ضوابط کی نگرانی اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کا اولین اور بنیادی ذمہ دار ادارہ ہے ۔ اتھارٹی کے پاس عمارتی منصوبوں کی منظوری، تعمیراتی لائسنس جاری کرنے اور ساختی ڈیزائن پر نظر رکھنے جیسے اہم اختیارات ہیں۔مقامی رہائشیوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انسپکٹر اورنگزیب خان نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے میں تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت قائم کر رکھی ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ وہ رشوت لے کر غیر قانونی تعمیرات کو جاری رہنے دیتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں، جس کے باعث گلستان جوہر کے مختلف حصوں میں بغیر کسی منظور شدہ نقشے یا ضروری سہولیات کے کئی منزلہ عمارتیں تیزی سے کھڑی ہو رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بار بار کی گئی شکایات کے باوجود اتھارٹی کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ پورا کھیل نوٹس اور رشوت پر چلتا ہے ۔ انسپکٹر صاحب کو اطلاع دینے کے بعد یا تو کوئی ٹیم آتی ہے ، بے ضرر سی وارننگ دیتی ہے ، اور پھر سب خاموشی۔ اس دوران تعمیراتی کام تیزی سے آگے بڑھتا رہتا ہے ۔”اسوقت بھی زمینی حقائق کے مطابق بلاک 11 کے پلاٹ نمبر B516, اور B138+139 پر تعمیراتی لاقانونیت برقرار ہے ، شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک ادارے کے اندرونی طور پر صفائی نہیں ہوگی، تب تک یہ مسائل بار بار سر اٹھاتے رہیں گے ۔صوبہ سندھ میں عمارتی ضوابط کا نفاذ اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنا ہے ،کارروائی صرف ‘نمود کی نظر’ ہے ، اصل مجرموں (بدعنوان افسران) کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اندرونی تفتیش، شفافیت، اور مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ضرورت ہے ،شہری حقوق کے کارکن عنایت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ "ایک دو عمارتیں گرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ وہ نظام ہے جو ان عمارتوں کو بننے دیتا ہے ۔ جب تک ایس بی سی اے جیسے اہم ادارے میں اورنگزیب خان جیسے افسران اور ان کے حامی بیٹھے رہیں گے ، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور اعلیٰ حکام اس گٹھ جوڑ کی نشاندہی کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔”گلستان جوہر کا معاملہ محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ پورے شہر میں پھیلے انتظامیہ اورمافیا کے گٹھ جوڑ کی ایک کھلی تصویر ہے ، جس کا تدارک ہی کراچی کو محفوظ شہر بنانے کی پہلی شرط ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں