میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں 8منزلہ عمارتوں کی غیر قانونی تعمیرات

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں 8منزلہ عمارتوں کی غیر قانونی تعمیرات

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۰ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلڈنگ انسپکٹر عامر علی، ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کا گٹھ جوڑ، فوری کارروائی کا مطالبہ
بلاکس نمبر 4پلاٹ نمبر 216 پر بلند عمارت کی تعمیر ات سے علاقہ مکینوں کو خطرات لاحق

ضلع وسطی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کے مختلف بلاکس بالخصوص نمبر 4میں واقع پلاٹ نمبر 216سمیت متعدد مقامات پر 80گز کے چھوٹے پلاٹوں پر 8منزلہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں،یہ تعمیرات نہ تو منظور شدہ نقشوں کے مطابق ہیں اور نہ ہی بلڈنگ قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔مکینوں کو خطرات لاحق ہیں کہ تنگ گلیوں میں واقع ان عمارتوں کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے ، جس کی وجہ سے آگ لگنے ، زلزلے یا عمارت گرنے کی صورت میں امدادی کارروائیاں ناممکن ہو جائیں گی۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر عامر علی نے ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی سے گٹھ جوڑ کے بعد مبینہ طور پر ان غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ذرائع کے مطابق عامر علی ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر انسانی جانوں کیلئے انتہائی خطرناک تعمیرات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کی سرپرستی کے باعث تعمیراتی مافیا نہ صرف منزلوں کا اضافہ کر رہے ہیں بلکہ سیٹ بیک اور دیگر بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان عمارتوں میں بنیادی حفاظتی انتظامات کا فقدان ہے ۔ سیڑھیاں تنگ ہیں، فائر سیفٹی کا کوئی نظام نہیں، اور پانی و سیوریج کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر سے ان کی پرانی عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور سورج کی روشنی تک متاثر ہوئی ہے ۔علاقہ مکینوں نے بلڈنگ انسپکٹر عامر علی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے بجائے بلڈرز کی سرپرستی کر رہے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ نے لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور متعدد بار ایس بی سی اے کو نوٹس جاری کر کے رپورٹ طلب کی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ایس بی سی اے میں نہ تو غیر قانونی تعمیرات روکنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی خواہش۔عدالتی احکامات کے باوجود عامر علی سمیت دیگر افسران کی لاپروائی کی وجہ سے نئی غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ماضی میں لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے باعث کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 2022میں لیاقت آباد میں ایک غیر قانونی تعمیر کی گئی 6منزلہ عمارت کی دیوار گر گئی تھی، جس میں دو خواتین جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتوں کی تعمیر تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی بنیادیں اتنی بلندی کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئیں اور کسی بھی قدرتی آفت یا حادثے میں یہ عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح گر سکتی ہیں۔ علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ عامر علی کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور لیاقت آباد کی تمام غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کیا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں