میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حیدرآباد بلدیہ تھانہ میں ایف آئی آر کی کتاب بند،جرم کھلم کھلا

حیدرآباد بلدیہ تھانہ میں ایف آئی آر کی کتاب بند،جرم کھلم کھلا

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۷ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

غازی خان سولنگی نامی شخص کے گرد قائم حفاظتی حصار ، ایس ایچ او بھی توڑنے میں ناکام
جرائم کے خلاف منظم خاموشی ،قانون مقفل ،آٹھ برسوں سے مبینہ منتھلی راج بے نقاب

(رپورٹ :عمران دیسوالی)یہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ سوالوں کا طوفان ہے ۔ وہ تھانہ جہاں قانون کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے تھی، وہاں مبینہ طور پر ایف آئی آر ہی یرغمال بن گئی۔ الزام ہے کہ غازی خان سولنگی نامی شخص کے گرد ایسا مبینہ حفاظتی حصار قائم ہے جسے نہ ایس ایچ او توڑ سکا، نہ نظام ایف آئی آر لاک ڈاؤن اورقانون کے دروازے بند کیسے ہوئے ؟کہا جاتا ہے ایف آئی آر انسداد و تحقیقِ جرم کا پہلا دروازہ ہوتی ہے ، مگر یہاں دروازہ ہی بند ہے ۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد بلدیہ تھانہ میں غازی خان سولنگی کے خلاف مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہ ہونے کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔ علاقہ مکینوں اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات، تحریری درخواستوں اور زبانی رپورٹس کے باوجود مقدمات اندراج کے مرحلے تک نہیں پہنچ پاتے ، جس سے ایک منظم خاموشی کا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔معصوم بچوں کو مبینہ طور پر منشیات کے دھندے میں جھونک دیا گیاجہاں بستہ ہونا تھا، وہاں مبینہ طور پر نشہ تھما دیا گیا۔ذرائع کے مطابق غازی خان سولنگی کے مبینہ نیٹ ورک میں کم عمر اور معصوم بچوں کو منشیات فروشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ بچوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کا یہ عمل نہ صرف سماجی جرم ہے بلکہ پورے نظام پر ایک بدنما داغ بھی ہے ، جس پر متعلقہ اداروں کی خاموشی مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔ایس ایچ او بدلتے رہے ، نظام نہ بدلاچہرے بدلے ، مگر مبینہ کھیل وہی رہا۔باخبر ذرائع کے مطابق تھانہ بلدیہ میں ایک کے بعد ایک، پھر دو، پھر تین اور پھر چار ایس ایچ او تعینات ہوئے ، مگر حیران کن طور پر غازی خان سولنگی کے خلاف مبینہ کارروائی کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران کی تبدیلی کے باوجود مبینہ منتھلی سسٹم اپنی جگہ برقرار رہا۔ جب نوٹ بولیں، تو قانون خاموش ہو جاتا ہے ۔ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی مبینہ آمدن کے ذریعے ایک ایسا مالی حصار قائم کیا گیا جس نے کارروائی کے امکانات کو دبا کر رکھ دیا۔ مبینہ طور پر ہفتہ وار اور ماہانہ رقوم کی ادائیگی کے باعث جرم پر دولت کی موٹی چادر ڈال دی گئی۔ جوا، منشیات، قبضہ ایک نیٹ ورک، کئی جرائم جرم ایک نہیں، فہرست طویل ہے ۔ذرائع کے مطابق جوا و سٹہ، منشیات فروشی، بجلی چوری، چوری شدہ مال کی خرید و فروخت، قبضہ مافیا اور غیر قانونی تعمیرات جیسے سنگین الزامات اسی مبینہ نیٹ ورک سے جوڑے جا رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں نے پورے علاقے کو خوف اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ سوشل میڈیا کے چند نام نہاد اوراتائی صحافیوں کو مبینہ طور پر مراعات دے کر حقائق دبانے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ مبینہ سہولت کاری نہ صرف صحافتی اقدار کے منافی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے مضبوط ڈھال بھی ثابت ہوئی۔ عوام سوال کر رہے ہیں،آئی جی سندھ کب حرکت میں آئیں گے اور تھانہ بلدیہ میں مبینہ ایف آئی آر لاک ڈاؤن، منتھلی سسٹم اور غازی خان سولنگی سمیت تمام مبینہ کرداروں کے خلاف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کب کرائی جائیں گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں